پشاور،شہرام تراکئی کا چیف جسٹس کے صوبے کے ہسپتالوں کے دوروں کو خوش آئند قرار

صوبائی حکومت صوبے کے ہسپتالوں کے بارے میں چیف جسٹس کے ریمارکس کو مثبت انداز میں لیتی ہے،سینئروزیر

جمعرات مئی 23:46

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) خیبر پختونخوا کے سینئروزیر شہرام تراکئی نے صوبائی حکومت کی طرف سے چیف جسٹس آف پاکستان کے صوبے کے ہسپتالوں کے دوروں کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت چیف جسٹس آف پاکستان کو خوش آمدید کہتی ہے اور صوبے کے ہسپتالوں کے بارے میں چیف جسٹس کے ریمارکس کو مثبت انداز میں لیتی ہے۔یہاں سے جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت نے اقتدار میں آتے ہی عوام سے کئے گئے اپنے وعدوں کے عین مطابق صحت کے شعبے میں بنیادی اصلاحات شروع کئے جس میں قانون سازی سے لیکر انتظامی اور مالی امور شامل ہیں۔

موجودہ صوبائی حکومت کو صحت کا شعبہ ایک ایسی حالت میں ملا تھا کہ آواے کا آوا ہی بگڑا ہواتھا مگر صوبائی حکومت نے صحت کے نظام کو یکسر تبدیل کرنے اور اس میں بنیادی اصلاحات متعارف کرنے کیلئے بنیادی اقدامات شروع کئے مگر عدالتوں میں مقدمے بازیوں، محدود مالی وسائل اور اصلاحات کی راہ میں حائل دیگر رکاوٹوں کی وجہ سے ان اصلاحات کو عملی جامہ پہنانے میں کافی وقت ضائع ہو گیا۔

(جاری ہے)

تاہم صوبائی حکومت نے باقاعدہ قانون سازی کے تحت صوبے کے بڑے تدریسی ہسپتالوں کو مکمل مالی اور انتظامی اختیارات دے کر انہیں سیاسی اثر رسوخ سے آزاد کر دیا اور ان کے لئے خود مختار بورڈز آف گورنرزتشکیل دیئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں موجودہ صوبائی حکومت کے اصلاحاتی اقدامات دوررس اور نتیجہ خیز ہیں ۔ ان اقدامات کی بدولت ہسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

تاہم جہاں جہاں پر خامیاں موجود ہیں انہیں دور کیا جا سکتا ہے اور صوبائی حکومت ان خامیوں کو دور کرنے کیلئے بھی مناسب اقدامات اٹھا رہی ہے۔صحت کے شعبے کی بہتری کیلئے اپنی حکومت کی کارکردگی کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ موجودہ صوبائی حکومت نے جاری ترقیاتی منصوبوں میں سے پندرہ ہسپتالوں کو مکمل کر لیا ہے جبکہ پندرہ نئے ہسپتالوں کے قیام پر کام شروع کیا جو تکمیل کے آخری مراحل میںہیں۔

اسی طرح صوبائی حکومت کے دور میں صوبے کے ہسپتالوں میں بستروں کی مجموعی تعداد میں4741کا اضافہ ہو گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ مالی سال2012-13ء کیلئے صوبائی بجت میں صحت کے شعبے کیلئی32.7 ارب روپے رکھے گئے تھے جبکہ سال2017-18ء کے بجٹ میں صحت کے شعبے کیلئی79.49ارب روپے رکھے گئے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت نے گزشتہ پانچ سالوں میں مجموعی طور پر شعبہ صحت کے انسانی وسائل میں39فیصد کا اضافہ کر دیا ہے۔

سال2013ء میں صحت کے شعبے میں طبی عملے کی تعداد35176 تھی جو سال2018ء میں بڑھ کر 48139ہو گئی۔ مزید تفصیلات بتاتے ہوئے شہرام تراکئی نے کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں صوبائی حکومت نے میڈیکل آفیسرز اور سینئر میڈیکل آفیسرز کی تعداد میں5612، ڈسٹرکٹ اسسٹنٹس کی تعداد میں651، انتظامی ڈاکٹروں کی تعداد میں163، ڈینٹل سرجنز کی تعداد میں143، نرسز کی تعداد میں2003،پیرا میڈیکس کی تعداد میں1542جبکہ لیڈی ہیلتھ ورکرز اور لیڈی ہیلتھ وذیٹرز کی تعداد میں3299 کا اضافہ کیا گیا ہے۔

ان اقدامات سے صوبے میں عوام کو علاج معالجے کی معیاری سہولیات کی فراہمی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت نے سرکاری ہسپتالوں میں جدید طبی آلات کی فراہمی کیلئے موجودہ مالی سال کے دوران13.613ارب روپے بطور اسپیشل گرانٹ مختص کر رکھا ہے جبکہ تدریسی ہسپتالوں میں بھی طبی آلات کی خریداری کیلئی10.613ارب روپے دیئے گئے ہیں۔

ان طبی آلات میں جدید سی ٹی سکین مشین،ایم آر آئی مشین، ڈائیلائسز مشین، انکیو بیٹر(incubators)وینٹیلیٹر(ventilators) کارڈئیک ڈیفربریلٹرز(cardia defribrillators) ایمبولینسز، ای سی جی مشین، الٹراسائونڈ مشین، ایکسرے مشین وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے صوبے کے سرکاری ہسپتالوں میں تمام ایمرجنسی ادویات مفت فراہم کر دی ہے۔ اس کے علاوہ ہسپتالوں میں ادویات کی دستیابی کو یقینی بنانے کیلئے ہسپتالوں کو500ملین روپے بطور ایڈیشنل گرانٹ فراہم کی جا رہی ہے۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت نے صوبے کے مستحق عوام کو علاج معالجے کی مفت سہولیات کی فراہمی کیلئے ہیلتھ انشورنس پروگرام کا آغازکر رکھا ہے جس کے تحت صوبے کی70فیصد آبادی کو سالانہ 5لاکھ روپے تک علاج معالجے کی مفت سہولیات فراہم کی جا رہی ہے۔