شرح نمو میں اضافہ‘ افراط زر میں کمی ہماری پالیسیوں کے اہم نکات ہیں، غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ختم ہوگئی ہے، بجٹ خسارہ 4.9 فیصد سے کم ہوگا، جی ڈی پی کی شرح کا ہدف 6.2 فیصد رکھا گیا ہے، تعلیم کے شعبے میں اصلاحات کا اعلان خوش آئند ہے

سی پیک کے تحت توانائی کی پیداوار ‘ شاہراہوں اور ریلوے کے منصوبوں سے ملک ایک نئے دور میں داخل ہوگا سابق وفاقی وزیر زاہد حامد کا قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران اظہار خیال

جمعہ مئی 12:00

اسلام آباد۔ 11 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی سابق وفاقی وزیر زاہد حامد نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ پاکستان کی خوشحالی کے لئے موثر ثابت ہوگا‘ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی کارکردگی کا تمام تر کریڈٹ سابق وزیراعظم نواز شریف اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو جاتا ہے‘ تعلیم کے شعبہ میں اصلاحات کا اعلان خوش آئند ہے‘ اقتصادی راہداری منصوبہ نواز شریف کا وژن ہے۔

جمعہ کو قومی اسمبلی میں بجٹ 2018-19ء پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی زاہد حامد نے کہا کہ وہ اپنے حلقہ کے عوام کی بے لوث محبت کی وجہ سے تین مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔ ممکن ہے کہ یہ میری آخری بجٹ تقریرہو۔ آئندہ میرا بیٹا الیکشن میں حصہ لے گا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ بجٹ پاکستان کی خوشحالی کے لئے موثر ثابت ہوگا۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی کارکردگی کا تمام تر کریڈٹ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شرح نمو میں اضافہ‘ افراط زر میں کمی ہماری پالیسیوں کے اہم نکات ہیں۔ بجلی کی پیداوار کے ذریعے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ختم ہوگئی ہے۔ بجٹ خسارہ 4.9 فیصد سے کم ہوگا۔ جی ڈی پی کی شرح کا ہدف 6.2 فیصد رکھا گیا ہے۔ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات کا اعلان خوش آئند ہے۔ اقتصادی راہداری منصوبہ نواز شریف کا وژن ہے۔ اس کے تحت توانائی کی پیداوار ‘ شاہراہوں اور ریلوے کے منصوبوں سے پاکستان ایک نئے دور میں داخل ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری قرضوں کو آئینی حدود کے اندر رکھا جائے۔ پسرور سیالکوٹ روڈ دو رویہ ہونے سے علاقے کے عوام کو فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ راجہ ظفر الحق رپورٹ اسلام آباد میں پیش کردی گئی ہے۔ میرا اس میں ذکر نہیں ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ توقع ہے کہ اس معاملے پر غیر ضروری بحث ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دھرنوں اور پارلیمنٹ پر حملوں کے باوجود موجودہ حکومت نے خوش اسلوبی سے اپنی مدت کی تکمیل کی۔ انہوں نے سپیکر اور وزیر قانون کے کردار کو بھی سراہا۔