ہم ہندونہیں ،ہمارامذہب الگ ہے، لینگایتوں کی ہندوئوں سے الگ ہونے کی کوشش

ہندومردے کو جلاتے ،ہم دفن کرتے ہیں،ہم کسی کے خلاف نہیں لیکن ہندوئوں سے ہماراکوئی واسطہ نہیں،مذہبی پیشوا

جمعہ مئی 12:26

نئی دہلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) بھارت کی ریاست کرناٹک کے لینگایت ہندو دیوتا شیوا کی پوجا کرتے ہیں لیکن وہ خود کو ہندو نہیں مانتے۔ وہ ایک عرصے سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ انھیں ہندو دھرم سے الگ ایک مختلف مذہب مانا جائے اور انھیں ایک مذہبی اقلیت کے طور پر تسلیم کیا جائے۔۔بھارتی ٹی وی کے مطابق ریاست میں لنگایتوں کی آبادی تقریباً 17 فی صد ہے۔

لنگایت 12 ویں صدی کے ایک سماجی باسونا یا باسویشورا کی تعلیمات میں یقین رکھتے ہیں۔لنگایت مذہبی رہنما سوامی جے مرتوانجے نے ہاکہ الگ مذہبی شنخت کی جدوجہد بہت پرانی ہے۔آزادی سے پہلے سے ہی ہم ایک الگ مذہب اور مذہبی اقلیت کا درجہ دینے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ یہ جدوجہد اب تک جاری ہے۔کرناٹک کی کانگریس حکومت نے 12 مئی کے انتخابات سے کچھ عرصے قبل مرکزی حکومت سے لنگایتوں کو ایک الگ مذہب کے طور پر تسلیم کرنے کی سفارش کی ہے لیکن مرکز کی بی جے پی حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اسے منظور نہیں کرے گی۔

(جاری ہے)

لنگایت برادری کے رہنما شیوانند جامدار نے کہاکہ ہم ہندو دھرم کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم خود کو ہندو دھرم سے الگ سمجھتے ہیں۔ہندوؤں کو مرنے کے بعد نذر آتش کیا جاتا ہے اس کے برعکس لنگایتوں میں مرنے کے بعد دفن کرنے کی روایت ہے۔لنگایتوں میں تعلیم پر بہت زیادہ زور ہے۔ انھوں نے مندروں سے زیادہ تعلیمی ادارے اور سکول کھول رکھے ہیں۔

متعلقہ عنوان :