مقبوضہ کشمیر،آزادی پسند تنظیموں اور رہنمائوں کا بھارتی فوج کے سربراہ کے بیان پر سخت ردعمل

جمعہ مئی 12:28

سرینگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیر میں آزادی پسند رہنمائوں اور تنظیموں نے کشمیر کے حوالے سے بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت کے حالیہ بیان پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کو کشمیریوں کی جدوجہد کے آگے ایک روز سر تسلیم خم کر کے جموں وکشمیر سے نکلنا پڑے گا۔ جنرل راوت نے نئی دہلی میں ایک میڈیا انٹرویو میں کشمیریوں کی آزادی کے امکان کو مسترد کردیاتھا۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق جموںوکشمیر لبریشن فرنٹ کے غیر قانونی طور پر نظر بند چیئرمین چیئرمین محمد یاسین ملک نے ایک بیان میں جنرل راوت کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جلد یا بدیر بھارت کو جموں کشمیر پر قائم اپنا غیر قانونی تسلط ختم کرنا پڑے کیونکہ فتح بالآخر سچائی کی ہوا کرتی ہے فوجی طاقت کی نہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اگر بھارتی آرمی چیف کے آزادی سے متعلق بیان میں کچھ حقیقت ہوتی تو آج بھی نصف سے زائد دنیا بشمول بھارت برطانوی تسلط میں ہوتا۔

محمد یاسین ملک نے کہا کہ کشمیریوں کے نام دھمکی آمیز بیانات جاری کرنے سے قبل جنرل راوت کو بنیادی تاریخ حقائق ذہن میں رکھنے چاہئیں کیونکہ جس قوم نے غیر ملکی تسلط سے آزادی حاصل کرنے کا عزم کر رکھا ہو اُسے دھمکیوں اور دھونس سے دبانا ممکن نہیں ہوتا ۔ محمد یاسین ملک نے کہا کہ بھارتی فورسز نے آج تک لاکھوں کشمیریوںکو شہید اورہزاروں کو لاپتہ کیا ہے اور اب جنرل راوت کشمیریوں کو مذید طاقت کے استعمال کی دھمکی دے کر دراصل اپنے ملک کے چہرے پر ڈالے گئے جمہوریت کے پردے کو چاک کر رہے ہیں۔

محمد یاسین ملک نے کہا کہ کشمیریوں نے ناجائز اور غیر قانونی تسلط سے آزادی پانے کی ٹھان رکھی ہے اور کشمیری کبھی بھی بھارتی طاقت کے سامنے سرنگوں نہیں ہوںگے۔ میر واعظ عمر فاروق کی سربراہی میں قائم فورم نے کشمیر کے حوالے سے بھارتی فوج کے سربراہ جرنل بپن راوت کے حالیہ بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی فورسز نے سو برس سے زائد وقت تک بھارت پر حکمرانی کی اور ہزاروں بھارتیوں کو قتل اور جلیاںنوالہ باغ جیسے قتل عام کیے لیکن انہیں بالآخر یہاں سے جانا پڑا کیونکہ عوام کی آزادی کی خواہشات فوجی قوت سے زیادہ طاقتور ہو تی ہیں۔

فورم کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ بھارتی فوجی سربراہ کو چاہیے کہ وہ اپنے سیاسی آقائوں سے یہ بنیادی سوال پوچھے کہ ایک باقاعدہ فوج کو جموں وکشمیر میں شہریوں کے گھروں کے باہر تعینات کرنے کا کیاجواز ہے۔ ترجمان نے کہا کہ کشمیر کے تعلیم یافتہ نوجوان بھارتی فوج کی طاقت اور تعداد سے بخوبی آگاہ ہیں لیکن وہ آزادی کی قدر وقیمت بھی بخوبی جانتے ہیں لہذا سروں پر کفن باندھ کر اس راہ میں نکلتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ تنازعہ کشمیر ایک سیاسی اور انسانی مسئلہ ہے جسے طاقت سے نہیں بلکہ سیاسی سوجھ بوجھ سے ہی حل کیا جاسکتا ۔ جموںوکشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے بھی ایک بیان میں بھارتی آرمی چیف کے بیان کو اشتعال انگیز قراردیا ہے ۔ جموںوکشمیر سالویشن موومنٹ کے چیئرمین ظفر اکبر بٹ نے ایک بیان میں بھارتی فوج کے سربراہ کے بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کی جدوجہد حق و صداقت پر مبنی ہے لہذا اس سے دستبرداری کا سول ہی پیدا نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر ایک سیاستی مسئلہ ہے جسے طاقت سے نہیں بلکہ بات چیت کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔حریت رہنما بلال صدیقی نے بھی ایک بیان میں کہ کسی قوم کو بندوق کی نوک پر زیادہ دیر تک غلام نہیں رکھا جاسکتا۔جموں وکشمیر مسلم لیگ کے ترجمان نے ایک بیان میں بھارتی فوجی سربراہ غیر حقیقت پسندانہ بیانات کے ذریعے بھارتیوں کو گمراہ کر رہے ہیں ۔

حریت رہنما ایڈووکیٹ محمد شفیع ریشی نے اپنے بیان میں کہا کہ بپن راوت کو جان لینا چاہیے کہ کشمیری عوام بھارتی تسلط سے آزادی کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں ۔جموں وکشمیر پیپلز لیگ کے چیئرمین مختار احمد وازہ نے کہا کہ جنرل راوت کو یاد رکھنا چاہیے کہ بھارت فوج طاقت کے بل پر کشمیریوں کو کبھی نہیں دبا سکتا۔ مقبوضہ علاقے کے نامزا مفتی اعظم مفتی ناصر الاسلام نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ جنرل راوت کشمیر یوں کے جذبہ آزادی کو دیکھ کر اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ بھارتی فوج کے سربراہ کو نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہیے۔