کاشتکاروں کو کپاس کی فصل پر کاٹن ملی بگ اور ڈسکی بگ کی فوری تلفی یقینی بنانے کی ہدایت

جمعہ مئی 12:56

فیصل آباد۔11 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) ماہرین حشرات نے کاشتکاروں کو کپاس کی فصل پر کاٹن ملی بگ اور ڈسکی بگ کی فوری تلفی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے اور کہاہے کہ پنجاب کے مختلف اضلاع خصوصاًً کپاس کے علاقوں میں بعض مقامات پر پودوں، جڑی بوٹیوں اور آرائشی پودوں پر ان کیڑوں کا حملہ دیکھنے میں آیا ہے لہٰذا اس ضمن میں کسی غفلت یاکوتاہی کامظاہرہ نہ کیاجائے۔

انہوں نے بتایاکہ یہ کیڑے کپاس کے پھولوں اور ٹینڈوں سے رس چوس کرنہ صرف پیداوارمیں کمی کا سبب بنتے ہیں بلکہ روئی کو داغ دار کر کے کوالٹی کو شدید متاثر کرتے ہیںلہٰذا ان کے تدارک کے لیے ابھی سے حکمت عملی مرتب کرنے اور عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔انہوںنے کہاکہ کپاس کی فصل کو پاکستان کی معیشت میں ایک اہم مقام حاصل ہے جبکہ روئی کی کوالٹی کو مزید بہتر کر کے ہر سال ملکی سطح پر اربوں روپے کا زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے ۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ عمدہ قسم کی کپاس اور روئی پیدا کرنے کے لیے صاف چنائی ،ذخیرہ اور ترسیل میں احتیاط کے ساتھ ساتھ ان کیڑوں پر کنٹرول حاصل کرنا از حد ضروری ہے کیونکہ ان کیڑوں کے بالغ اور بچے دونوں حالتوں میں سبز ٹینڈے میں اپنی سوئی داخل کر کے بیج کا رس چوس لیتے ہیں جس سے متاثرہ بیج اور روئی پر بیکٹیریا اور فنجائی کا حملہ ہو جاتا ہے جس کے نتیجہ میں ٹینڈا پوری طرح نہیں کھلتا اور غیر معیاری روئی پیدا ہوتی ہے۔

انہوںنے کہاکہ کیڑے کے فضلات سے بھی روئی آلودہ ہو جاتی ہے یا پھر جننگ فیکٹریوں میں جننگ کے دوران ان کیڑوں کے کچلنے سے روئی پر داغ بن جاتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ بیج پر شدید حملہ کی صورت میں تیل کے اجزاء کم ہو جاتے ہیں اور اس طرح بیج کا اگائو بھی متاثر ہوتا ہے لہٰذا ان کیڑوں کی میزبان فصلات یعنی بھنڈی توری، جوار ، باجرہ اور پٹ سن پر بھی ان کیڑوں کی تلفی کو یقینی بنایاجائے نیز جڑی بوٹیوں کی تلفی پر بھی خصوصی توجہ دی جائے ۔انہوںنے کہاکہ کاشتکار فصلات پر حملہ کی صورت میں زرعی ماہرین کے مشورہ سے سفارش کردہ زہروں کا سپرے کریں تاکہ کپاس کی فصل کو نقص-ان سے بچانے میںمعاونت مل سکے ۔