یورپی شہری ایران کی جوہری ڈیل کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں، فرانسیسی صدر

دورہ امریکہ کے دوران مشترکہ پریس کانفرنس میں لگاٹرمپ جوہری معاہدہ برقراررکھیں گے،جرمن ریڈیو کوانٹرویو

جمعہ مئی 13:55

پیرس(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے امریکا کی جانب سے ایران کے ساتھ جوہری ڈیل سے علیحدگی کو ایک غلطی قرار دیا ہے اورکہاہے کہ یورپی شہری اس معاہدے کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔۔جرمن ریڈیو کو ایک انٹرویومیں انہوں نے کہاکہ سب زیادہ اہم مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کا قیام ہے۔ انہوں نے کہاکہ واشنگٹن دورے میں مجھے محسوس ہوا تھا کہ امریکی صدر 2015 کے اس معاہدے کو برقرار نہیں رکھنا چاہتے اور ان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ہمیں ایک وسیع فریم ورک کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔

‘‘ انہوں نے کہا کہ انہیں امریکا کے فیصلے پر افسوس ہے اور امریکا کا یہ فیصلہ ایک غلطی ہے۔فرانسیسی صدر نے کہاکہ ہم یورپی شہری 2015 سے اس معاہدے میں رہنا چاہتے ہیں جیسے کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا اور صدر روحانی کو بھی بتایا۔

(جاری ہے)

ہم نے اس معاہدے پر مذاکرات کیے، اس معاہدے پر دستخط کیے اور اس کے ذریعے ہم ایران میں جوہری دفاعی سرگرمیوں کو 2025 تک کنٹرول کر سکتے ہیں۔

لیکن اس معاہدے کو 2025 تک مکمل ہونا ہے۔ماکروں نے اپنے دورہء واشنگٹن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے امریکی صدر کو کہا تھاکہ آپ سب کچھ تہس نہس مت کریں، اگر کوئی پریشانی ہے تو پھر اس فریم ورک کو مضبوط کرنا چاہیے۔ ماکروں کے مطابق ایسا نہیں ہوا اور ٹرمپ نے تناؤ پیدا کرنے کا فیصلہ کیا۔ماکروں نے کہا کہ فرانس اور جرمنی سمیت یورپی ممالک اور برطانیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ 2015 کے معاہدے کو برقرار رکھیں گے تاکہ ایران اپنی جوہری سرگرمیوں کا ایک مرتبہ پھر آغاز نہ کرسکے۔

ماکروں نے کہا کہ یہ واضح ہو چکا ہے کہ ایران نے جوہری سرگرمیاں روک دی ہیں اور ایران نے بھی بتایا کہ اب اس میدان میں کوئی کام نہیں ہورہا۔ ایران کی جوہری ڈیل سے متعلق یورپی فیصلہ ہمیں اجازت دیتا ہے کہ کہ ایران کی سرگرمیوں پر نظر رکھ سکے۔ ماکروں نے کہاکہ ہمیں ساتھ کام کرنا ہوگا تاکہ خطے میں بڑھتے تناؤ کو روکا جاسکے ہم کئی ماہ سے ایسا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔