روہنگیا مسلمانوں کی میانمار واپسی ممکن بنائی اورکوششوں میں تیزی لائے ، سلامتی کونسل

روہنگیا بحران کی بنیادی وجوہات اور محرکات کو ختم اورمہاجرین کی واپسی کے لیے مناسب حالات پیدا کیے جائیں،بیان

جمعہ مئی 13:55

نیویارک(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) سلامتی کونسل نے میانمار پر زور دیا ہے کہ وہ بنگلہ دیش میں مقیم روہنگیا مہاجرین کی ملک واپسی کی کوششوں میں تیزی لائے۔ تقریبا سات لاکھ روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش میں انتہائی ابتر حالات میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک بیان میں زور دیا کہ میانمار کی حکومت بنگلہ دیش میں مہاجر کیمپوں میں مقیم سات لاکھ روہنگیا مسلمانوں کی وطن واپسی کی کوششوں میں تیزی لائے۔

اس بیان میں کہا گیا کہ یہ عمل محفوظ اور بغیر کسی خطرے کے سرانجام دینے کی کوشش کی جانا چاہیے۔سلامتی کونسل کے اس بیان سے البتہ وہ متن خارج کر دیا گیا جس میں روہنگیا مسلمانوں کی انسانی حقوق کی پامالیوں کا تذکرہ کیا گیا تھا۔

(جاری ہے)

یہ بیان ایک ایسے وقت پر جاری کیا گیا جب سلامتی کونسل کے ممبران ممالک کے نمائندے میانمار اور بنگلہ دیش کے فیکٹ فائنڈگ دوروں سے واپس لوٹے ہیں۔

سلامتی کونسل نے زمینی حقائق معلوم کرنے اور ان کا تجزیہ کرنے کی خاطر اپنی ایک ٹیم کو اٹھائیس مارچ تا یکم مئی ان ممالک کے دوروں پر روانہ کیا تھا۔سلامتی کونسل کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ روہنگیا بحران کی بنیادی وجوہات اور محرکات کو ختم کیا جائے اور بنگلہ دیش میں موجود روہنگیا افراد کی ملک واپسی کے لیے مناسب حالات پیدا کیے جائیں۔

اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ روہنگیا مہاجرین کی واپسی کا یہ عمل مہاجرین کی رضا مندی اور ان کی عزت نفس کو ملحوظ رکھتے ہوئے سر انجام دینا چاہیے۔ ساتھ ہی کہا گیا ہے کہ میانمار کے صوبے راکھین میں بے گھر ہونے والے روہنگیا افراد کو بھی ان کے گھروں میں آباد کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جانا چاہییں۔اس تناظر میں سلامتی کونسل میں برطانیہ کی طرف سے تیار کردہ ایک قرار داد کے مسودے میں تجویز کیا گیا تھا کہ میانمار کی افواج کی طرف سے روہنگیا کمیونٹی کے خلاف مبینہ کریک ڈاؤن اور انسانی حقوق کی پامالیوں کی غیرجانبدار تحقیقات کرانا چاہییں۔ فرانس اور امریکا نے بھی اس قرار داد کی حمایت کی تھی لیکن چین کے اعتراض کے بعد اس متن کو خارج کر دیا گیا۔