سینٹ سے موصول ہونے والی سفارشات کو آئندہ مالی سال کے بجٹ کا حصہ بنایا جائے‘ تمام وفاقی اکائیوں کو اعتماد میں لے کر آگے بڑھا جائے، اراکین قومی اسمبلی کا بجٹ بحث میں اظہار خیال

جمعہ مئی 13:50

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) اراکین قومی اسمبلی نے کہا ہے کہ سینٹ سے موصول ہونے والی سفارشات کو آئندہ مالی سال کے بجٹ کا حصہ بنایا جائے‘ تمام وفاقی اکائیوں کو اعتماد میں لے کر آگے بڑھا جائے اور سب کے ساتھ یکساں برتائو ہونا چاہیے‘ اس سے جمہوریت اور پارلیمنٹ مستحکم ہوگی۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں سینٹ سفارشات پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے جے یو آئی (ف) کی رکن نعیمہ کشور خان نے کہا کہ سینٹ کی سفارشات اچھی ہیں۔

ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی اور زرعی مشینری پر ٹیکسوں کی کمی کے حوالے سے سفارشات کو بجٹ کا حصہ بنایا جائے۔ اس کے علاوہ شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویلوں کے لئے بلا سود قرضوں کے اجراء کے حوالے سے بھی سینٹ نے سفارش کی ہے۔ اسمبلی نے حلال فوڈ اتھارٹی کا بل منظور کیا تھا اس کو فعال کیا جائے۔

(جاری ہے)

فاٹا کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے بہت کم بجٹ رکھا گیا ہے۔

قومی امبلی کا ایک الوداعی سیشن لازمی ہونا چاہیے۔ تحریک انصاف کے رکن شہریار آفریدی نے سینٹ سفارشات پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ سینٹ کی 157 سفارشات خوش آئند ہیں۔ بجٹ میں وفاقی اکائیوں کے مفادات کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ چھوٹے صوبوں کا کوئی والی وارث نہیں ہے۔ گیس اور تیل پیدا کرنے والے صوبوں کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا سے خریدی جانے والی بجلی کی قیمت میں اضافہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ سینٹ اور قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے ملازمین سمیت دیگر سرکاری اداروں کے مفادات کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے۔ تمام وفاقی اکائیوں کو اعتماد میں لے کر آگے بڑھا جائے اور سب کے ساتھ یکساں برتائو ہونا چاہیے۔ اس سے جمہوریت اور پارلیمنٹ مستحکم ہوگی۔ ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی ایس اے اقبال قادری نے کہا کہ آئین کے تحت ملک کے شہری کو اپنی جائیداد کے تحفظ اور روزگار پیدا کرنے کے حوالے سے جو حقوق حاصل ہیں ان کا بجٹ میں خیال نہیں رکھا گیا۔

عثمان خان ترکئی نے کہا کہ محصولات کے اہداف ہم حاصل نہیں کر سکے۔ حکومت کو اس سلسلے میں مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ اداروں کو اپنا دائرہ کار مدنظر رکھتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ مسلم لیگ (ن) کے رائو اجمل خان نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس مٹی کے احسانات کا قرض ضرور اتارنا چاہیے۔ زراعت اور کاشتکار کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے۔

زراعت ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ صنعتوں کی طرح زراعت کو بھی پانچ سے سات فیصد شرح سود پر قرضہ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آبی ذخائر نہ بنائے تو آنے والے وقت میں ہمارے لئے مسائل بڑھیں گے اور زرعی شعبہ بری طرح متاثر ہوگا۔ ہمیں اپنی ذات سے بالاتر ہو کر صرف اور صرف پاکستان کا سوچنا چاہیے۔ جماعت اسلامی کے صاحبزادہ محمد یعقوب نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ تمام دشواریوں کے باوجود اسمبلی مدت پوری کر رہی ہے۔

توقع ہے کہ انتقال اقتدار کا مرحلہ احسن انداز میں سرانجام دیا جائے گا۔ انہوں نے شرح سود ‘ قرضوں اور اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کی صورتحال غیر تسلی بخش ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ آئندہ کے لئے بجٹ سازی کا عمل پورا سال جاری رکھا جائے اور اس کے لئے ایوان کی کمیٹی قائم کی جائے۔ پیپلز پارٹی کی شگفتہ جمانی نے کہا کہ پی ایس ڈی پی میں دفتر خارجہ کی سفارش پر اسلام آباد میں ایک نیا کنونشن سنٹر بنانے کے لئے 100 ارب روپے کی رقم مختص کی ہے۔ اس کی ضرورت نہیں تھی۔