سینٹ میں عوامی اہمیت کے مختلف معاملات پر بحث،سینیٹر مشتاق احمد خان کاسعودی عرب میں پاکستانی مزدوروں کی حالت اوران کی تعداد میں کمی آنے کا نوٹس لینے کا مطالبہ، سینیٹر طلحہ محمود نے خان پور روڈ بنائے جانے کی طرف توجہ دلائی،سسی پلیجو نے کہا کہ بدین میں لوڈ شیڈنگ کے مسئلہ کا نوٹس لیا جائے،ارکان کے لئے علاج معالجہ اور ادویات کی فراہمی کو بہتر بنایا جائے، سینیٹر کلثوم پروین

جمعہ مئی 14:00

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) ایوان بالا میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان نے عوامی اہمیت کے مختلف معاملات پر بات کی۔ جمعہ کو ایوان بالا کے اجلاس کے دوران عوامی اہمیت کے معاملہ پر بات کرتے ہوئے سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ سعودی عرب میں پاکستانی مزدوروں کی حالت بہت خراب ہے۔ اس مسئلہ پر توجہ دی جائے۔

دن بدن مزدوروں کی تعداد میں کمی آ رہی ہے۔ اس صورتحال کا نوٹس لیا جائے۔ سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ خان پور روڈ بنائی جائے، روڈ خراب ہونے سے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔ سسی پلیجو نے کہا کہ بدین میں لوڈ شیڈنگ کے مسئلہ کا نوٹس لیا جائے۔ اعظم سواتی نے کہا کہ وہیکل فٹنس پر کام کیا جائے۔ پنجاب کے اچھے قانون لا کر وفاقی دارالحکومت میں ان قوانین کے نفاذ کے لئے کام کر رہا ہوں۔

(جاری ہے)

سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ بیورو کریٹس کا رویہ عوامی نمائندوں سے درست نہیں۔ اس سلسلے میں ہمیں افسروں کے خلاف کارروائی کر کے مثال بنانی چاہئے۔ بلوچستان میں زرعی فیڈرز کے لئے بجلی فراہم کی جائے۔ مستونگ، قلات، چمن، لورہ لائی زیارت کوئٹہ سمیت کئی علاقوں میں کئی کئی گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔ سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کہ ارکان کے لئے علاج معالجہ اور ادویات کی فراہمی کو بہتر بنایا جائے۔

چیئرمین نے اس معاملہ پر سینیٹ سیکریٹریٹ کو رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔ سینیٹر بہرہ مند خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں لوڈ شیڈنگ کا نوٹس لیا جائے۔ سینیٹر اے رحمان ملک نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے ایران پر عائد پابندیوں کے پاکستان پر بھی اثرات ہوں گے۔ یہ قومی ایشو ہے، حکومت بتائے کہ اس پر کیا پالیسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایئر ٹکٹ کے لئے جو پیسے بتائے جاتے ہیں وہی وصول کئے جائیں۔ ایئرپورٹ جا کر پتہ چلتا ہے کہ 10 ہزار کا ٹکٹ اب 15 ہزار کا ہو چکا ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ چیئرمین سینیٹ نے ایوی ایشن سے اس معاملے پر رپورٹ طلب کرلی۔