علی عارف اپنی لیک آڈیو کال کی حقیقت بتانے خود میدان میں آگئے

آڈیو لیک پر تنقید کرنے والوں کو کرارا جواب دے دیا!

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعہ مئی 14:14

علی عارف اپنی لیک آڈیو کال کی حقیقت بتانے خود میدان میں آگئے
کراچی (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 11 مئی 2018ء) : کراچی میں سما کے ٹی وی اینکر کے سامنے ہی قانون شکنی اور غنڈہ گردی کرنے والے جنید کاکڑ کو پولیس نے حوالات میں بند کیا تو جنید کاکڑ کی عقل ٹھکانے آ گئی۔ جنید کاکڑ نے احاطہ عدالت میں سما کے ٹی وی اینکر سے معافی کا مطالبہ کیا جس پر علی عارف نے بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں معاف کر دیا۔ معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا، گذشتہ دو روز سے سوشل میڈیا پر ٹی وی اینکر علی عارف کی ایک مبینہ لیک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں علی عارف نے فون کرنے والے کاکڑ خاندان کے فرد سے ازالے کے طور پر دو آئی فون دینے کا مطالبہ کیا۔

ہم سارا مہینہ محنت کر کے حلال کی کمائی سے اپنی چیزیں لیتے ہیں تو جب کوئی ہماری چیز توڑ دے اس کو ہم کیسے جانے دے سکتے ہیں۔

(جاری ہے)

اس آڈیو کے لیک ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین اور کچھ ٹی وی اینکرز کی جانب سے علی عارف کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ تنقید کی زد میں آتے ہی علی عارف نے بھی سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام جاری کر دیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ میری آڈیو کال کو لیک کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ شاید میں نے کوئی ڈیل کر لی ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے، سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والا آڈیو کلپ گفتگو کا صرف ایک حصہ تھا، اگلے حصے میں میں نے کال کرنے والے سے سرعام معافی مانگنے کا مطالبہ بھی کیا ۔

مجھے فون کرنے والے نے خود کو جنید خان کاکڑ اور احمد ولی کاکڑ کے کزن خالد کاکڑ بتایا۔ علی عارف نے کہا کہ میرا نقصان ہواتھا جس پر میں غصہ تھا اسی لیے میں نے ازالہ دینے کی بات کی۔ اگر کوئی ڈیل ہو جاتی تو پھر ازالہ کیسے ہو سکتا تھا ؟ مجھے افسوس ہے کہ آڈیو کال کو سُن کر غلط تاثر دینے کی کوشش کی گئی اور یہ کہا گیا کہ علی عارف بے نقاب ہو گئے۔

خالد کاکڑ نے مجھ سے ملاقات کی درخواست بھی کی میں نے ان سے ملاقات کی اور کہا کہ آپ اپنی کالے شیششوں والی گاڑی پیش کریں اور آپ کے دونوں لڑکے آ کر مجھ سے آن ائیر معافی مانگیں اور میرے نقصان کا ازالہ کریں۔ سوشل میڈیا پر مجھ پراتنی تنقید کی گئی کہ میری والدہ نئے مجھے معاملہ رفع دفع کرنے اور خاموش رہنے کا کہا ، میں صرف اپنی والدہ کی وجہ سے خاموش تھا ۔

علی عارف نے کہا کہ لیک آڈیو کال میں صاف پتہ چل رہا ہے کہ میں نیند میں تھا ، میں نے کالے شیشوں والی گاڑی پیش کرنے کا مطالبہ کیاتھالیکن تاثر یہ دیا گیا کہ میں نے گاڑی اپنے لیے مانگی ہے۔ میرے پاس دوسری کال کی ریکارڈنگ موجود ہے جس سے اس سارے تاثر کی تردید ہوتی ہے۔ میرے پاس وہ شواہد موجود ہیں جن سے میں ان کی تمام باتوں کی تردید کر سکتا ہوں۔

یاد رہے کہ کراچی میں ڈیفنس کے علاقے میں میں وائٹ کرولا میں سواردو لڑکوں نے قانون کی دھجیاں اُڑا دیں۔ رانگ وے پر آنے اور سماء کے اینکر کی گاڑی کو سائیڈ مارنے کے علاوہ گالیاں بھی دیں۔وائٹ کرولا میں بیٹھنے والے دو نوجوان لڑکوں نےعلی عارف کا موبائل فون بھی توڑ دیا اور دھمکیاں دیں کہ بدمعاش ہوں ، ڈسٹرکٹ چیئرمین بلوچستان کا بیٹا ہوں ،جو کرنا ہے کرلو۔جنید خان کاکڑ نامی لڑکے نے یہ بھی کہا کہ کس میجر، کس کرنل کا تعارف کرواؤں۔ مذکورہ نوجوان کراچی میں ڈیفنس اتھارٹی ڈگری کالج کا طالبعلم ہے۔میڈیا نے جنید کاکڑ کی نشاندہی کی تو پولیس نے تین روز بعد ہی اسے گرفتار کرلیا۔ علی عارف نے اپنے ویڈیو پیغام میں مزید کیا کہا آپ بھی دیکھیں: