مسلم لیگ ن کا چیئرمین نیب کیخلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ

نوازشریف کی زیرصدارت سنٹرل ایگزیکٹوکمیٹی کا اجلاس،نیب الزامات کی مذمت،نیب متعصب اورجانبدار ادارہ ثابت ہوچکا ہے،چیئرمین نیب نےمعافی نہ مانگی توقانونی چارہ جوئی کاحق رکھتے ہیں۔قائد ن لیگ نوازشریف

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ مئی 14:52

مسلم لیگ ن کا چیئرمین نیب کیخلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 مئی 2018ء) : مسلم لیگ ن کے قائد محمد نواز شریف کی زیرصدارت پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میں ملکی سیاسی صورتحال ، آئندہ عام انتخابات اور نیب کے حالیہ الزام کا جائزہ اور آئندہ کی حکمت عملی پرغور کیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق قائد ن لیگ اورسابق وزیراعظم محمد نوازشریف کی زیرصدارت پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں پارٹی کی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا۔

اجلاس میں سردار مہتاب عباسی، سپیکر ایازصادق ، شہباز شریف،، راجاظفرالحق، مریم نواز،، خواجہ سعد رفیق اورمریم اورنگزیب سمیت مرکزی رہنماؤں نے شرکت کی۔اجلاس میں پارٹی کی مجلس عاملہ نے نوازشریف پرمنی لانڈرنگ کے الزام کی شدید مذمت کی ہے۔ جبکہ ن لیگ کی مرکزی مجلس عاملہ نےچیئرمین نیب کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

(جاری ہے)

مسلم لیگ ن کی مرکزی مجلس عاملہ نے نیب کی وضاحت کو مسترد کردیا ہے۔

نوازشریف نے کہا کہ احتساب کے نام پرانتقامی کاروائیاں قابل قبول نہیں۔نیب متعصب اور جانبدار ادارہ ثابت ہوچکا ہے۔۔چیئرمین نیب نے معافی نہ مانگی توقانونی چارہ جوئی کا حق رکھتے ہیں۔ اجلاس میں پارلیمانی بورڈ، الیکشن سیل اور منشور کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس میں مسلم لیگ ن نے ٹکٹ جاری کرنے کیلیےپارلیمانی بورڈ قائم کرنے کی منظوری  بھی دے دی ہے۔

سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے الیکشن سیل کے قیام اورمنشور کمیٹی کی تشکیل کی بھی منظوری دی ہے۔ واضح رہے چیئرمین نیب نے ایک اخبار کے کالم پرنوازشریف کیخلاف جانچ پڑتال کا حکم دیا کہ سابق وزیراعظم نے منی لانڈرنگ کے ذریعے چار ارب نوے کروڑ روپے بھارت بھجوائے جس سے بھارت کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بہت بڑھا اضافہ ہوگیا۔ تاہم اسٹیٹ بینک و دیگراداروں نے اس بات کوکلیئر کردیا کہ نوازشریف نے ایسی کوئی رقم بھارت نہیں بھجوائی۔ نیب کے الزام پرسابق وزیراعظم نواز شریف نے چیئرمین نیب سے24گھنٹے میں شواہد سامنے لانے یا پھر معافی ما نگنے کا مطالبہ کیا ہے۔