قومی اسمبلی ،ْموجودہ حکومت کو پورے سال کا بجٹ پیش کر نے کا کوئی اختیار نہیں ،ْ اپوزیشن

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ سے مہنگائی آئے گی تو نان 12 روپے کا ہوگا ،ْبجلی کے بل بڑھ جائیں گے ،ْ گیس اور تیل پیدا کرنے والے صوبوں کو نظر انداز کیا جارہا ہے ،ْشازیہ مری ،ْ شہر یار آفریدی و دیگر کا اظہار خیال

جمعہ مئی 15:20

قومی اسمبلی ،ْموجودہ حکومت کو پورے سال کا بجٹ پیش کر نے کا کوئی اختیار ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) قومی اسمبلی اپوزیشن اراکین نیسینٹ سفارشات پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کو پورے سال کا بجٹ پیش کر نے کا کوئی اختیار نہیں ،ْ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ سے مہنگائی آئے گی تو نان 12 روپے کا ہوگا ،ْبجلی کے بل بڑھ جائیں گے ،ْ گیس اور تیل پیدا کرنے والے صوبوں کو نظر انداز کیا جارہا ہے جبکہ حکومتی اراکین نے کہا ہے کہ بجٹ کو دہشت گردی غربت زدہ علاقوں میں پھیلتی ہے ،ْبجٹ میں ان عوامل کا خیال رکھنا ہوگا ،ْزراعت ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے ،ْ صنعتوں کی طرح زراعت کو بھی پانچ سے سات فیصد شرح سود پر قرضہ دیا جائے۔

جمعہ کو قومی اسمبلی میں سینٹ سے موصول ہونے والی سفارشات پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے پیپلز پارٹی کی شازیہ مری نے کہا کہ گزشتہ روز چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو احسن اقبال کی عیادت کے لئے گئے۔

(جاری ہے)

انہوں نے بالغ نظری کا ثبوت دیا دیگر جماعتوں کو بھی اس کی تقلید کرنی چاہیے۔ ۔ پورے سال کا موجودہ حکومت کو بجٹ پیش کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

تین صوبوں کے وزراء اعلیٰ کی مرضی کے بغیر آئندہ سال کا پی ایس ڈی پی پیش کیا گیا۔ سندھ کی ترقیاتی سکیموں کے لئے پی ایس ڈی پی میں بہت کم رقم مختص کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ سے مہنگائی آئے گی تو نان 12 روپے کا ہوگا۔ بجلی کے بل بڑھ جائیں گے۔ اس صورت میں حکومتی اعداد و شمار پر کوئی یقین نہیں کرے گا۔ لوگوں کو صرف اپنے مسائل سے غرض ہے۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے وفاقی وزیر میاں رضا حسین پیرزادہ نے کہا کہ سی سی آئی نے اتفاق رائے سے پہلے بھی اور اب بھی واٹر پالیسی مرتب کی۔ فضلے اور انڈسٹریل ویسٹ کے حوالے سے صوبوں کو ہم نے بار بار خطوط لکھے کہ انسانوں اور جانوروں پر اس کے مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ تمام وزراء اعلیٰ کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے اس معاملے کو واٹر پالیسی سے منسلک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

دنیا کے کئی ممالک سمندر کا پانی صاف کرکے پینے کے لئے فراہم کر رہے ہیں۔ ہم نے بھی صوبوں کو اس حوالے سے لکھا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک باہر سے کوڑا امپورٹ کرکے انرجی پیدا کر رہے ہیں۔ دیہاتوں میں بھی گندے پانی کو صاف کرنے کے پلانٹ لگائے جائیں یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی غربت زدہ علاقوں میں پھیلتی ہے۔ بجٹ میں ان عوامل کا خیال رکھنا ہوگا۔

کپاس سمیت دیگر فصلوں کو سنڈیوں سے بچانے کے لئے اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف اگر دہشت گردی کے خلاف سینہ سپر نہ ہوتے تو آج حالات بہتر نہ ہوتے۔ اس کا تمام کریڈٹ نواز شریف کو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے صوبوں کو آبادی میں اضافے کے حوالے سے بھی لکھا ہے کہ وہ صحت کی پالیسی کے ساتھ آبادی کے معاملے کو بھی منسلک کریں۔

صوبوں کو آبادی کنٹرول کرنے کا موثر منصوبہ دینا چاہیے۔ ’’پاپویشن بلاسٹ‘‘ کو روکنا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ میں نے ہمیشہ اصولوں کا ساتھ دیا ہے۔ عزت کے ساتھ قبر میں جانا چاہتا ہوں۔سینٹ سفارشات پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے جے یو آئی (ف) کی رکن نعیمہ کشور خان نے کہا کہ سینٹ کی سفارشات اچھی ہیں۔ ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی اور زرعی مشینری پر ٹیکسوں کی کمی کے حوالے سے سفارشات کو بجٹ کا حصہ بنایا جائے۔

اس کے علاوہ شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویلوں کے لئے بلا سود قرضوں کے اجراء کے حوالے سے بھی سینٹ نے سفارش کی ہے۔ اسمبلی نے حلال فوڈ اتھارٹی کا بل منظور کیا تھا اس کو فعال کیا جائے۔ فاٹا کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے بہت کم بجٹ رکھا گیا ہے۔ قومی امبلی کا ایک الوداعی سیشن لازمی ہونا چاہیے۔ تحریک انصاف کے رکن شہریار آفریدی نے سینٹ سفارشات پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ سینٹ کی 157 سفارشات خوش آئند ہیں۔

بجٹ میں وفاقی اکائیوں کے مفادات کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ چھوٹے صوبوں کا کوئی والی وارث نہیں ہے۔ گیس اور تیل پیدا کرنے والے صوبوں کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا سے خریدی جانے والی بجلی کی قیمت میں اضافہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سینٹ اور قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے ملازمین سمیت دیگر سرکاری اداروں کے مفادات کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے۔

تمام وفاقی اکائیوں کو اعتماد میں لے کر آگے بڑھا جائے اور سب کے ساتھ یکساں برتائو ہونا چاہیے۔ اس سے جمہوریت اور پارلیمنٹ مستحکم ہوگی۔ ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی ایس اے اقبال قادری نے کہا کہ آئین کے تحت ملک کے شہری کو اپنی جائیداد کے تحفظ اور روزگار پیدا کرنے کے حوالے سے جو حقوق حاصل ہیں ان کا بجٹ میں خیال نہیں رکھا گیا۔ عثمان خان ترکئی نے کہا کہ محصولات کے اہداف ہم حاصل نہیں کر سکے۔

حکومت کو اس سلسلے میں مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ اداروں کو اپنا دائرہ کار مدنظر رکھتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ مسلم لیگ (ن) کے رائو اجمل خان نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس مٹی کے احسانات کا قرض ضرور اتارنا چاہیے۔ زراعت اور کاشتکار کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے۔ زراعت ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ صنعتوں کی طرح زراعت کو بھی پانچ سے سات فیصد شرح سود پر قرضہ دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر آبی ذخائر نہ بنائے تو آنے والے وقت میں ہمارے لئے مسائل بڑھیں گے اور زرعی شعبہ بری طرح متاثر ہوگا۔ ہمیں اپنی ذات سے بالاتر ہو کر صرف اور صرف پاکستان کا سوچنا چاہیے۔ جماعت اسلامی کے صاحبزادہ محمد یعقوب نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ تمام دشواریوں کے باوجود اسمبلی مدت پوری کر رہی ہے ،ْ توقع ہے انتقال اقتدار کا مرحلہ احسن انداز میں سرانجام دیا جائے گا۔

انہوں نے شرح سود ‘ قرضوں اور اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کی صورتحال غیر تسلی بخش ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ آئندہ کے لئے بجٹ سازی کا عمل پورا سال جاری رکھا جائے اور اس کے لئے ایوان کی کمیٹی قائم کی جائے۔ پیپلز پارٹی کی شگفتہ جمانی نے کہا کہ پی ایس ڈی پی میں دفتر خارجہ کی سفارش پر اسلام آباد میں ایک نیا کنونشن سنٹر بنانے کے لئے 100 ارب روپے کی رقم مختص کی ہے۔

اس کی ضرورت نہیں تھی۔ اجلاس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر جب وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل بحث سمیٹنے لگے تو ڈاکٹر شیریں مزاری نے طے شدہ پروگرام کے تحت کورم کی نشاندہی کردی۔ اس سے قبل تحریک انصاف کے تمام اراکین ایوان سے اٹھ کر باہر چلے گئے تاہم پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کے اراکین ایوان میں موجود رہے ،ْکورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے اجلاس پیر کی شام پانچ بجے تک کیلئے ملتوی کردیا گیا۔