ڈیپارٹمنٹ آف باٹنی یونیورسٹی آف سرگودھا کے زیر اہتمام-’’ علم نباتات میں جدید رجحانات‘‘ کے موضوع پر کانفرنس کا انعقاد

جمعہ مئی 15:28

سرگودھا۔11 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) ڈیپارٹمنٹ آف باٹنی یونیورسٹی آف سرگودھا کے زیر اہتمام-’’ علم نباتات میں جدید رجحانات -‘‘ کے موضوع پر پہلی بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ تین روزہ کانفرنس کا انعقاد پاکستان ہائر ایجوکیشن کمیشن کے تعاون سے کیا گیا ہے جس میں چائنہ، ارجنٹینا، بلغاریہ،،امریکہ اور بھارت سے تعلق رکھنے والے ماہرین نباتات سمیت150سے زائد ملکی و غیر ملکی محققین اور سکالرز نے پلانٹ سائنسز میں ہونے ہوالی علمی و تحقیقی پیش رفت کے حوالے سے اپنے مقالہ جات پیش کیے۔

شرکاء نے کانفرنس میں اپنے مقالہ جات پیش کرتے ہوئے کہا کہ پلانٹ بائیولوجی دنیا کی قدیم ترین نیچرل سائنس ہے۔نباتات ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ ساتھ دوا سازی، خوراک سمیت روز مرہ کی زندگی میں انتہائی اہم ہیں۔

(جاری ہے)

یہ ضروری ہے کہ نباتات کا تحفظ یقینی بناتے ہوئے علوم نباتات کو انسانی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کیا جائے۔بلغارین پروفیسر ڈاکٹر وازیلوا ولیانہ نے جنوب مغربی یورپ میں اگنے والے سہ شاخہ گھاس سے بھوسے کی ممکنہ پیداوار کے متعلق اپنی ریسرچ پیش کرتے ہوئے کہا کہ سہ شاخہ گھاس کی پیدوار اس کے اگنے، پھولنے سے متعلق معلومات میں کمی کے باعث بتدریج کم ہو رہی ہے۔

سہ شاخہ گھاس کی چراگاہوں میں اضافہ کے لیے ضروری ہے کہ اس کے اگانے والے گھاس کے بیج،بونے کے وقت اور بیج کی کوالٹی سے بخوبی واقف ہوں۔انڈیانہ یونیورسٹی بلومنگٹن، امریکہ سے کانفرنس میں شرکت کرنے والے پروفیسر ڈاکٹر معین الدین نے کہا کہ پودوں کے تنوں کی اندرونی ساخت میں جو دائرے ہوتے ہیں اس سے پودے کی عمر ، ساخت اور درجہ بندی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

قبل ازیں وائس چانسلر ڈاکٹر اشتیا ق احمد نے کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی اور خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کانفرنسز کے انعقاد کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ طلبہ دنیا بھر کے سکالرز سے اپنے شعبہ کے متعلق جدید ترین علم حاصل کرسکیں، طلبہ کو چاہیے کہ وہ ایسی کانفرنسز میں شرکت کر کے جدید علوم سے مستفید ہوں۔ڈیپارٹمنٹ آف باٹنی کے چیئرمین ڈاکٹر عامر علی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس کے انعقاد کے ذریعے علم نباتات کے مختلف پہلوئوں کو اجاگر کیا گیاا ور ماہرین علم نباتات کو ایسا پلیٹ فارم مہیا کیا گیا جہاں وہ خیالات و نظریات کا باہمی تبادلہ کر سکیں۔