چین نے دفا عی شعبے میں امر یکہ کی اجا رہ داری ختم کر نے کی ٹھا ن لی

بیجنگ جے ٹوئٹی خفیہ جنگی طیاروں پر مبنی ایک یونٹ بنانے کی تیاری کر رہا ہے جس کے بعد وہ اسٹیلتھ ٹیکنالوجی میں امریکا کی اجارہ داری کو چیلنج کر سکے گا، رپورٹ

جمعہ مئی 15:32

بیجنگ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) چین نے دفا عی شعبے میں امر یکہ کو مات دینے کی ٹھا ن لی ، بیجنگ جے ٹوئٹی خفیہ جنگی طیاروں پر مبنی ایک یونٹ بنانے کی تیاری کر رہا ہے جس کے بعد وہ اسٹیلتھ ٹیکنالوجی میں امریکا کی اجارہ داری کو چیلنج کر سکے گا۔ اس کے علاوہ فضا میں ہی اپنے ہدف کونشانہ بنانے والے پی ایل 15 میزائل، 055 کروزو اور جدید ریڈاروں کے باعث چین کی کوشش ہے کہ امریکا یا اس کے اتحادی چینی سرحدوں یا ساحل کے قریب نہ آسکیں۔

انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے مطا بق دنیا میں چین دفاع پر خرچ کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔ چین تیزی سے اپنی فوج ’پیپلز لبریشن آرمی‘ کو جدید بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ چین امریکا کی دفاعی طاقت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔

(جاری ہے)

2017ئ میں دفاع پر 150 ارب ڈالر خرچ کرنے والے اس ایشیائی ملک نے 2015ئ کے بعد پہلی مرتبہ آبنائے تائیوان میں فوجی مشق کی۔

اس کا مقصد نیم خودمختار تائیوان کے سامنے اپنی فوجی قوت کا مظاہرہ کرنا تھا۔ صدر شی جن پنگ کی قیادت میں چین نے اپنے فوجی ساز وسامان اور اسلحے کو جدید کرنے کا منصوبہ بنایا ہوا ہے۔ گزشتہ اکتوبر میں کمیونسٹ پارٹی کی انیسویں قومی کانگریس میں شی جن پنگ نے کہا تھا کہ انہیں سن 2035 تک پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل ای) کو موجودہ دور کی مناسبت سے جدید کرنا ہوگا اور اسے سن 2050 تک دنیا کی طاقت ور ترین افواج میں شامل کرنا ہوگا۔

فوج کے مختلف شعبوں میں ترقی تو ہو رہی ہے لیکن چین نے سب سے زیادہ ترقی فضائیہ اور بری افواج میں کی ہے۔ ان دونوں شعبوں میں چین نے تکنیکی صلاحیت اتنی بڑھا لی ہے کہ اب وہ امریکا سے پیچھے نہیں ہے۔ چین جے ٹوئٹی خفیہ جنگی طیاروں پر مبنی ایک یونٹ بنانے کی تیاری کر رہا ہے جس کے بعد وہ اسٹیلتھ ٹیکنالوجی میں امریکا کی اجارہ داری کو چیلنج کر سکے گا۔

اس کے علاوہ فضا میں ہی اپنے ہدف کونشانہ بنانے والے پی ایل 15 میزائل، 055 کروزو اور جدید ریڈاروں کے باعث چین کی کوشش ہے کہ امریکا یا اس کے اتحادی چینی سرحدوں یا ساحل کے قریب نہ آسکیں۔ رانڈ کارپوریشن کے ایک سینیئر سیاسی تجزیہ کار مائیکل چیز نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،’’چین نے کئی شعبوں میں متاثر کن ترقی کی ہے جس کی بدولت وہ اپنے دشمنوں کو دور رکھنے اور مستقبل میں جنگیں جیتنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔

‘‘انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز میں چین کی دفاعی پالیسی اور فوجی ترقی کی ریسرچر میائی نووینز کے مطابق، ’’شی جن پنگ کی قیادت میں چین ان مسائل کو حل کرنے کے لیے تیار ہے جو اس کے عسکری عزائم کی تکمیل میں ممکنہ طور پر خلل ڈال سکتے ہیں۔‘‘ایک اور نقطے پر روشنی ڈالتے ہوئے نووینز کا کہنا ہے کہ چین نے ان ممالک میں اپنی سرمایہ کاری کافی بڑھا لی ہے جو غیر مستحکم ہیں۔ اس کے علاوہ اپنی سرمایہ کاری اور چینی شہریوں کے تحفظ کی خاطر چین یہ سمجھتا ہے کہ اسے اپنی فوجی طاقت کو دنیا بھر کو دکھانا ہوگا۔ نووینز کا کہنا ہے،’’ یہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے، بیجنگ محسوس کرتا ہے کہ اسے اب اپنی عسکری صلاحیتوں کو سرحد سے پار وسیع پیمانے پر دکھانا ہوگا۔‘‘