وزیر اعظم کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس

اوگرا آرڈیننس ترمیم ،افغانستان سے درآمد اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی ختم اور اور پی آئی اے کو20 ارب قرض کی منظوری دیدی گئی

جمعہ مئی 15:37

وزیر اعظم کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں اوگرا آرڈیننس میں ترمیم کی منظوری کے ساتھ ساتھ پی آئی اے کو بیس ارب روپے قرض کی منظوری اور افغانستان سے درآمد ہونے والی اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کرنے کی منظوری دی گئی ۔

(جاری ہے)

جمعہ کے روز وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا اجلاس میں پی آئی اے کو بیس ارب روپے قرض کے لئے گارنٹی فراہم کرنے کی منظوری دی گئی قومی ایئر لائن یہ رقم طیاروں کے انجن اورہالنگ کے لئے استعمال کرے گا ای سی سی نے ہدایات کی ہیں کہ پی آئی اے مالی مدد صرف طے شدہ کام کے لئے استعمال کریں جبکہ پی آئی اے نے ای سی سی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پی آئی اے کے خسارے کو کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے بہت جلد اس خسارے پر قابو پالیں گے اجلاس میں اوگرا آرڈیننس دو ہزار دو میں بھی ترمیم کی منظوری دی گئی اس ترمیم کے تحت ایل این جی اور آر ایل این جی سپلائی کو اوگرا ریگولیٹ کرے گا جبکہ افغانستان سے تازہ پھل سبزیاں اور ڈرائی فروٹس کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کرنے کی بھی منظوری دی گئی وزیراعظم نے اپے حالیہ دورہ افغانستان میں ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا وزیراعظم کی زیر صدارت اس اجلاس میں عالمی ادارہ خوراک کو پنتیس ہزار میٹرک ٹن گندم فراہم کرنے کی بھی منظوری دی گئی عالمی ادارہ خوراک یہ گندم فاٹا کے ٹی ڈی پیز میں تقسیم کرے گا یہ گندم پاسکو کے ذریعے ورلڈ فوڈ پروگرام کو دی جائے گی ۔