پی ٹی آئی کی سفارتکاروں پرپابندی کیخلاف پنجاب اسمبلی میں مذمتی قرارداد

سفارتکاروں کی نقل وحرکت پرپابندیاں غیرسفارتی عمل ہے،امریکی سفارتکاروں پربھی ایسی ہی پابندیاں لگائی جائیں،امریکی سفیرکوبلا کروضاحت بھی طلب کی جائے۔قرارداد کا متن

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ مئی 15:28

پی ٹی آئی کی سفارتکاروں پرپابندی کیخلاف پنجاب اسمبلی میں مذمتی قرارداد
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 مئی 2018ء) : تحریک انصاف نے امریکہ میں پاکستانی سفارتکاروں پرپابندی کے خلاف مذمتی قرار داد پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی ہے، قرار داد میں مطالبہ کیا گیا کہ امریکی سفارتکاروں پر بھی ایسی ہی پابندیاں عائد کی جائیں۔ میڈیا رپورٹس کے تحریک انصاف کی رکن پنجاب اسمبلی نبیلہ حاکم علی نے امریکہ میں پاکستانی سفارتکاروں اور ان کے عملے پر پابندی لگانے کیخلاف مذمتی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کرادی۔

امریکی اسٹیٹ ڈیپاٹمنٹ پاکستانی سفارتکاروں کی توہین کی ہے۔ یہ پاک امریکہ تعلقات کے دوران پہلی مرتبہ ہوا ہے۔ پاکستا نی سفارتکاروں کے ہمراہ ان کے اہلخانہ پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ لہذا یہ ا یوان امریکی اسٹیٹ ڈیپاٹمنٹ کے اقدام کی مذمت کرتا ہے۔

(جاری ہے)

پاکستانی سفارتکاروں اور ان کے اہلخانہ کی نقل و حرکت پر پابندیاں غیر سفارتی عمل ہے۔ یہ ایوان حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ پاکستان میں موجود امریکی سفارتکاروں اور ان کے اہلخانہ پر بھی ایسی ہی پابندیاں لگائی جائیں اور امریکی سفیر کو بلا کر ان سے وضاحت طلب کی جائے۔

واضح رہے امریکا نے اپنی نئی پالیسی کے تحت پاکستان کیخلاف اوچھے ہتھکنڈے شروع کردیے ہیں۔ امریکہ نے پاکستانی سفارتکاروں اور عملے پر امریکہ مین سفری پابندیاں عائد کردی ہیں۔ پاکستانی سفارتکاروں کو امریکہ میں پچیس کلومیٹر کی حدود سے باہر سفر کرنے کیلئےامریکن اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے اجازت لینا ہوگی۔ پاکستان میں سفارتکاروں کیخلاف پابندیوں پرشدید ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔

عوام اور سیاسی جماعتیں امریکہ کے اس اقدام کیخلاف کے سراپا احتجاج ہیں۔ تحریک انصاف نے پنجاب اسمبلی میں مذمتی قرار داد میں امریکہ سفارتکاروں پر پابندی لگانے اور پیپلزپارٹی نے معاملے کو سلجھانے کیلئے پاکستان میں امریکہ سفارتکاروں پرپابندی نہ لگانے کی تجویز پیش کی ہے۔ سینیٹ میں سینیٹر شیری رحمان نے کہاکہ پاکستان کوامریکہ کے ردعمل میں پاکستان میں تعینات امریکی سفارتکاروں پرپابندیاں عائد نہیں کرنی چاہیئں۔جبکہ نئے وزیرخارجہ کی فوری تعیناتی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔