ینگ ڈاکٹرز کے وظیفے میں اضافے کے باوجود مطالبے پورے نہ ہونے کی رٹ پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے برہمی کا اظہار

ینگ ڈاکٹرز پہلے پرفارمنس دیں پھر مطالبہ کریں ،ْبدمعاشی نہیں چلے گی ،ْ چیف جسٹس ثاقب نثار کے ریمارکس

جمعہ مئی 16:10

ینگ ڈاکٹرز کے وظیفے میں اضافے کے باوجود مطالبے پورے نہ ہونے کی رٹ پر ..
کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں ٹارگٹ کلنگ ازخود نوٹس کیسز کی سماعت کے دوران ینگ ڈاکٹرز کے وظیفے میں اضافے کے باوجود مطالبے پورے نہ ہونے کی رٹ پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ینگ ڈاکٹرز پہلے پرفارمنس دیں پھر مطالبہ کریں۔جمعہ کو چیف جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل بینچ کوئٹہ رجسٹری میں کیس کی سماعت کی ۔

چیف سیکرٹری بلوچستان نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ڈاکٹرز کے وظیفہ میں 4 ہزار روپے اضافہ کیا جا رہا ہے جس کے بعد ینگ ڈاکٹرز کا وظیفہ 30 ہزار ہو جائیگا جس پر صدر ینگ ڈاکٹرز نے کہاکہ دوسرے صوبوں میں 60 ہزار روپے وظیفہ دیا جاتا ہے ،ْ ہمیں صرف 24 ہزار وظیفہ ملتا ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو صوبہ کے حالات کے مطابق وظیفہ دیا جاتا ہے۔

(جاری ہے)

نجی ٹی وی کے مطابق ڈاکٹر یاسر نے کہا کہ ہمارے مطالبات پورے نہیں ہوئے جس پر چیف جسٹس نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہ ینگ ڈاکٹرز کو کوئی وظیفہ نہ دیا جائے ،ْبد معاشی نہیں چلے گی۔

چیف سیکریٹری نے کہا کہ ینگ ڈاکٹرز سیاست میں ملوث ہیں، سرکاری محکموں میں یونینز کام خراب کر رہی ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جو ڈاکٹر سیاست میں ہیں انہیں فارغ کر دیں ،ْ پہلے اپنے فرائض سر انجام دیں پھر ڈیمانڈ کریں۔ سیکرٹری صحت نے عدالت کو آگاہ کیا 571 ڈاکٹرز کی بھرتیوں کے آرڈرز ہوچکے ہیں، 500 مزید ڈاکٹرزعارضی بھرتی کیے جائیں گے۔