الیکشن کمیشن کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

اسلام آباد ہائیکورٹ نےالیکشن کمیشن کابھرتیوں،تبادلوں اورترقیاتی منصوبوں پرپابندی کا نوٹیفکیشن کالعدم قراردیا تھا،الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا۔ میڈیا رپورٹس

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ مئی 16:13

الیکشن کمیشن کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11مئی 2018ء) : الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا بھرتیوں، تبادلوں اور ترقیاتی منصوبوں پرپابندی کا نوٹیفکیشن کالعدم قراردیا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق الیکشن کمیشن نےاسلام آباد ہائیکورٹ کا گزشتہ روز کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا وفاق اور صوبوں میں 11اپریل کا بھرتیوں اور ترقیاتی منصوبوں پرپابندی کانوٹیفکیشن کالعدم کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔ واضح رہے الیکشن کمیشن نے ترقیاتی کاموں،بھرتیوں اورتبادلوں پرپابندی عائد کی گئی تھی۔جبکہ وفاق اور صوبوں نےالیکشن کمیشن کے حکم کو اسلام ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

(جاری ہے)

واضح رہے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آئندہ عام انتخابات2018ء کے پیش نظر حکم جاری کیا تھا کہ وفاق اور صوبائی حکومتیں اپنے علاقوں اور محکموں میں نہ توبھرتیاں کرسکیں گی اور نہ ہی جاری ترقیاتی کاموں کوجاری رکھ سکیں گی۔

الیکشن کمیشن نے انتخابات کوصاف شفاف بنانے اور قبل الیکشن دھاندلی کو روکنے کیلئے وفاقی اور صوبوں میں ترقیاتی کاموں ، بھرتیوں اورتبادلوں پر پابندی عائد کردی تھی۔ واضح رہےالیکشن کمیشن کی عام انتخابات2018ء کے انعقاد کیلئے تیاریاں فائنل مرحلے میں داخل ہوگئی ہیں۔ الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کو صاف شفاف بنانے کیلئے نہ صرف اقدامات کیے جارہے ہیں بلکہ ووٹرز لسٹوں اورانتخابی عملے کی تربیت بھی شروع کردی ہے۔

جن میں ریٹرننگ آفیسراوراسسٹنٹ ریٹرننگ آفیسرودیگرعملہ بھی شامل ہے۔ الیکشن کمیشن نےصاف شفاف انتخابی عمل کویقینی بنانے کے تناظر میں ہی وفاقی اور صوبوں میں ترقیاتی کاموں ، بھرتیوں اورتبادلوں پر پابندی عائد کی تھی۔ تاکہ الیکشن کے بعد کوئی جماعت پری پول دھاندلی کا الزام عائد نہ کرسکے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عام انتخابات 2018ء کا صاف شفاف انعقاد اور پولنگ کے دوران سکیورٹی صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے الیکشن کمیشن کیلئے کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔

الیکشن 2013ء کے فوری بعد الیکشن کمیشن پردھاندلی کے الزامات لگائے گئے۔ تحریک انصاف اور دیگر جماعتوں نے الزام عائد کیا کہ لاہور میں مختلف پولنگ اسٹیشنز پردھاندلی ہوئی ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے دھاندلی کو بے نقاب کرنے کیلئے اسلام آباد میں ایک سوچھبیس دن کا دھرنا بھی دیا۔ تاہم عمران خان کے مطالبے پرچار حلقے بھی کھولے گئے۔

تاہم اس بار الیکشن میں دو بڑی جماعتوں میں ٹف مقابلے کی توقع کی جارہی ہے ۔ ان میں پاکستان مسلم لیگ ن اور دوسری جماعت تحریک انصاف ہے ۔اسی طرح پیپلزپارٹی اورمذہبی اتحاد ایم ایم اے بھی الیکشن میں بھرپورانداز میں اترنے کیلئے تیاری کررہے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے آئندہ عام انتخابات کے پیش نظر حلقہ بندیوں کا کام بھی مکمل کرلیا ہے۔تاہم ملک بھر میں اکثر حلقے ایسے ہیں جو تبدیل کردیے گئے ہیں۔ جن پر سیاسی جماعتوں کے منتخب اور نامزد امیدواروں نے شدید تحفظات کا اظہار بھی کیا۔ تاہم اب الیکشن کمیشن نے عام انتخابات 2018ء کیلئے2 تاریخیں سامنے آگئی ہیں،،الیکشن کمیشن نےعام انتخابات کے لیے 25 یا 26 جولائی کوپولنگ کی تاریخوں پرغور شروع کردیا ہے۔