امریکی سفارتکار کا نام ای سی ایل میں ڈالنے سے متعلق 2 ہفتوں میں فیصلہ کرنے کی ہدایت

ملزم کرنل جوزف کو مکمل سفارتی استثنیٰ حاصل نہیں ہے ،ْ اسلام آباد ہائی کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا

جمعہ مئی 16:30

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) اسلام آباد ہائی کورٹ نے امریکی ملٹری اتاشی کرنل جوزف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے سے متعلق وزارت داخلہ کو 2 ہفتوں میں فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا۔ جمعہ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے امریکی ملٹری اتاشی کی گاڑی کی ٹکر سے ہلاک ہونے والے عتیق بیگ کے والد کی درخواست پر محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ملزم کرنل جوزف کو مکمل سفارتی استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔

واضح رہے کہ وزارتِ داخلہ اس سے قبل کرنل جوزف کو بلیک لسٹ قرار دے کر عدالت میں رپورٹ جمع کراچکی ہے۔اس حوالے سے اسلام آباد پولیس نے بھی وزارتِ داخلہ کو ایک خط لکھا تھا جس میں درخواست کی تھی کہ متعلقہ مقدمے کے فیصلے تک کرنل جوزف کو ملک چھوڑنے کی اجازت نہ دی جائے۔

(جاری ہے)

خیال رہے کہ مقتول عتیق بیگ کے والد کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی جس میں کرنل جوزف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے اور انسپکٹر جنرل (آئی جی) اسلام آباد، چیف کمشنر اور ایس ایچ او تھانہ کوہسار کو واقع کی شفاف تحقیقات یقینی بنانے کا حکم دینے کی استدعا کی تھی۔

عتیق بیگ کے والد کی درخواست میں کہا گیا تھا کہ پولیس مقدمے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ مکمل کرکے متعلقہ عدالت کے سامنے پیش کرے۔مقتول کے والد نے مطالبہ کیا تھا کہ عدالت شفاف تحقیقات کرکے ملزم کو گرفتار کرے اور بیان قلمبند کرنے کا حکم دے۔