رمضان المبارک اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے کا مہینہ ہے ‘مولانا سید عبد الخبیر آزاد

رمضان اللہ کا مہینہ ہے اورصبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے ‘استقبال رمضان کانفرنس سے علماء کرام و مقررین

جمعہ مئی 16:59

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) تاریخی عالمگیری باد شاہی مسجد لاہور میں استقبال رمضان المبارک کے حوالے سے خطیب امام باد شاہی مسجد لاہور وچیئر مین مجلس علماء پاکستان مولانا سید عبد الخبیر آزاد کی زیر صدارت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ، جبکہ علماء کرام میں علامہ کاظم رضا نقوی،مولانا نعیم بادشاہ، مفتی سیف اللہ خالد، مولانا ولی اللہ شاہ ،خواجہ جاوید اسلم صحاف مولانا عباس عابدی ،بلال احمد میر،تاجر راہنما سید عبد القدیر آزاد،صاحبزادہ سید عبد البصیر آزاد ودیگر رہنما شریک ہوئے ۔

(جاری ہے)

حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے خطیب امام باد شاہی مسجد لاہور مولانا سید عبد الخبیر آزادنے استقبال رمضان پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک نیکیوں کو لوٹنے اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور مغفرت طلب کرنے کا مہینہ ہے ،یہ ماہ مبارک بڑی برکتوں اور رحمتوں والا مہینہ ہے ،اللہ تعالیٰ سے رحمت اور بخشش اورمعافی و استفار کرنے کا مہینہ ہے، جس میں اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے بندوں کی مغفرت فرماتے ہیں، رمضان المبارک میں عبادات اورتراویح و قیام الیل اور ذکر و اذ کار کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے قرب حاصل کیا جائے ،اس مبارک ماہ میں اللہ تعالی نے ہمیں ایک ایسی رات عطا فرمائی ہے جسے شب قدر کہتے ہیں،جس کو لیلةمبارکہ بھی کہا گیاہے ‘یعنی برکتوں والی رات ،اس رات کو اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کی مغفرت فرمادیتے ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس مبارک رات کی سعادتیں نصیب فرمائے،آمین ،دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں وطن عزیز پاکستان رمضان کے مبارک مہینہ میں عطا فرمایا جس پر ہم اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہیں ، یہ مہینہ وحدت کا اور امت مسلمہ میں اتحاد واتفاق کا مہینہ ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اتحاد وا تفاق نصیب فرمائے ، رمضان اللہ کا مہینہ ہے اور صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے اس ماہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمتوں کی بارش ہوتی ہے ،پہلا عشرہ رحمت کا دوسرا عشرہ مغفرت کا اور تیسرا عشرہ جہنم سے نجات کا ہے دیگر مقررین نے بھی استقبال رمضان کے حوالے سے اپنے اپنے خطاب میں رمضان المبارک کے فضائل و برکات اور نماز تراویح اور اعتکاف کے فضائل پر ورشنی ڈالی، آخر میں وطن عزیز میں امن سلامتی اور ملکی استحکام و ترقی کیلئے اجتماعی دعا کی گئی ۔