دوبئی کے خلیفہ کو اربوں روپے معاف کرنے کی تجویز دینے والے پی آئی اے بورڈ کا ممبرکون نکلا؟ حیر انگیز تفصیلات سامنےآ گئیں

شیخ خلیفہ کو ڈیڑھ ارب روپے چھوٹ کی سفارش کرنے والے عاطف اسلم باجوہ خود شیخ خلیفہ کے خاندان کے ملازم رہ چکے ہیں

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعہ مئی 16:50

دوبئی کے خلیفہ کو اربوں روپے معاف کرنے کی تجویز دینے والے پی آئی اے ..
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔11مئی 2018ء) پی آئی اے بورڈ نے شیخ خلیفہ کو اربوں روپے مالیت کا سود معاف کرنے کی سفارش کی تھی۔اور پاکستان کی تام حکومتیں 21 برس سے پی آئی اے کے اربوں روپے کھانے والے دوبئی کے ایک شیخ کے سامنے بے بس ہو گئے۔تفصیلات کے مطابق معروف صحافی رؤف کلاسرا کا دوران پروگرام گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جس بوڑد نے دبئی کے خلیفہ شیخ حمدان کو ڈیڑھ ارب روپے معاف کرنے کی تجویز دی اس بوڑد میں عاطف اسلم باجوہ بھی شامل ہیں۔

دبئی کے شیخ خلیفہ کو ڈیڑھ ارب روپے چھوٹ کی سفارش کرنے والے عاطف اسلم باجوہ خود شیخ خلیفہ کے خاندان کے ملازم رہ چکے ہیں۔ ۔اور یہ بینک الفلاح کے سی ای او بھی رہ چکے ہیں۔جو بنک ابو ظہبی گروپ کا ہے۔اور بینک الفلاح بھی رائل فیملی کے پاس ہے۔

(جاری ہے)

جب کہ پاکستان کے سابق وزیر خارجہ اسحاق ڈار یو اے ای کے حکمران شیخ نہایان مبارک النہایان کے ملازم رہ چکے ہیں۔

اور پی آئی اے کے اربوں روپے لوٹنے والے شیخ خلیفہ بن حمدان کا تعلق بھی اسحاق ڈار کو ملازم رکھنے والے اس خاندان سے ہے۔روف کلاسرا کا مزید کہنا تھا کہ اصل کیسز تو یہ ہیں۔نیب کو ان تمام معملات کو بھی دیکھنا چاہئیے۔اور عاطف اسلم باجوہ کو بلا کر پوچھ گچھ کرے۔یاد رہے کہ متحدہ عرب امارت کے شاہی خاندان اور دبئی کے حکمران شیخ حمدان کا پی آئی اے پر ڈیڑھ ارب روپے کا ڈاکہ ڈالنے کا منصوبہ بے نقاب ہوا تھا۔

اور بتایا گیا تھا کہ دبئی کے شیخ حمدان کی پی آئی اے کے ساتھ کھیلنے کی یہ کہانی 1977ء سے شروع ہوئی ۔ جس کا اختتام پچھلے ہفتے وزیراعظم ہاؤس میں ہوا ۔ یہ 40 سال کی کہانی ہے۔ روف کلاسرا نے بتایا کہ 1997میں شیخ حمدان نے پی آئی اے کو ایک پیش کش کی کہ ابو ظہبی کی زمین پر ہم مل کر ایک ہوٹل بناتے ہیں۔اور اس کے بعد پی آئی اےا ور شیخ حمدان کے درمیان ایک معاہدہ طے ہوا جس کے مطابق پی آئی اے کے پاس 49 فیصد شئیرز ہوں گے جب کہ شیخ حمدان کے پاس 51 فیصد شئیرز ہوں گے۔

اور اس طرح 1978ء میں کیے گئے ایک معاہدے کے تحت ’سنٹرل ہوٹل‘ معاہدے کے حقوق شیخ خلیفہ بن حمدان کے پاس رہے۔ شیخ حمدان نے اس میں 3 کروڑ 94لاکھ درہم دئیے۔جب کہ پی آئی نے 3 کروڑ 78 لاکھ درہم دئیے۔جس کے بعد معاہدے کا آغاز ہو گیا اور پی آئی اے کو دس سال تک اس کا منافع ملتا رہا۔ یہ معاہدہ بیس سال تک قائم رہنا تھا لیکن شیخ حمدان نے صرف دس سال تک پی آئی اے کو منافع دیا لیکن دس سال کے بعد ایک درہم نہیں دیا۔

جس کے بعد پی آئی اے نے شیخ حمدان پر فراڈ کامقدمہ کیا۔ لیکن شیخ حمدان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کے ساتھ مل کر جو دبئی میں ’سنٹرل ہوٹل‘ قائم کیا گیا اس کی آرائش پر میرے 3کروڑ درہم لگے ہیں پہلے تو پی آئی اے مجھے وہ دے۔۔۔پی آئی اے نے دعوی کیا کہ ہوٹل میں ہمارا حصہ 27 ملین روپے بنتا ہے۔اور بی سی سی آئی میں جوہوٹل کا اکاؤنٹ تھا اس میں 22 ملین روپے ہمارے حصے میں آتے ہیں۔

جو کہ ٹوٹل 5 کروڑ درہم بنتا ہے۔ جس کے بعد پی آئی اے اور شیخ حمدان کے درمیان تنازع کھڑا ہو گیا۔جب یہ کیس دوبئی کی سپریم کورٹ میں چلا تو ان کے چیف جسٹسنے شیخ حمدان کو حکم دیا کہ آپ 2کروڑ 34 لاکھ درہم پی آئی اے کو ادا کریں۔اور 6 فیصد سود بھی دیں۔اور پھر یہ معاملہ یونہی چلتا رہا۔۔۔پی آئی اے کے بورڈ نے شیخ حمدان کے سامنے ایک تجویز پیش کی کہ آپ ہمیں 60کروڑ روپے دے دیں۔اور ہم 1 ارب روپے معاف کر دیں گے۔جب کہ پی آئی اے کے اس بورڈ میں ڈاکٹر نجیب،عاطف اسلم باجوہ،اسلم خالق اور محمد عرفان الہی شامل تھے