غیر قانونی حاجیوں کی مدد کرنے والے بھی مجرم ہیں

سعودی محکمہ پاسپورٹ نے غیر قانونی حاجیوں کی مدد کرنے والوں کے لیے سزاوں کا اعلان کر دیا

Sadia Abbas سعدیہ عباس جمعہ مئی 17:02

غیر قانونی حاجیوں کی مدد کرنے والے بھی مجرم ہیں
ریاض (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) سعودی محکمہ پاسپورٹ نے حج سیزن کی تیاریاں مکمل کر لیں ۔ مزید تفصیلات کے مطابق سعودی محکمہ پوسپورٹ نے اعلامیہ جاری کیا ہے کہ حج سیزن شروع ہونے کو ہے اس لیے جہاں حاجیوں کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے انتظامات کیے گئے ہیں وہیں غیر قانونی حاجیوں اور انکی مدد کرنے والوں کے لیے بھی اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں ۔

سعودی محکمہ پاسپورٹ کا کہنا ہے کہ غیر قانونی طور پر حج کرنے والوں کو گرفتار کرکے انکے فنگر پرنٹس لیے جائیں گے اور انھیں آئندہ 10 سال کے لیے بلیک لسٹ کر دیا جائے گا۔ جبکہ حج کے دوران مختلف خلاف ورزیوں کرتے ہوئے پکڑے جانے والے افراد کو 3 برس تک سعودی عرب آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ محکمہ پاسپورٹ نے حجاج کے خدمتگار اداروں اور کمپنیوں کو انتباہجاری کی ہے کہ اگر کسی ادارے یا کمپنی نے حج یا عمرہ پر آنے والوں کے بروقت واپس نہ جانے پر رپورٹ نہ کیا یا انکی ریاست میں غیر قانونی طور پر رہنے میں مدد کی تو اس پر ایک لاکھ ریال تک کا جرمانہ کیا جاسکتا ہے۔

(جاری ہے)

محکمہ پاسپورٹ نے اس کی تفصیلات دیتے ہوئے واضح کیا کہ پہلی بار رپورٹ نہ کرنے پر 25ہزار ریال جرمانہ ہوگا۔ دوسری بار 50 ہزار اور تیسری بار ایک لاکھ ریال جرمانہ ہوگا۔ جتنے زیادہ حاجی یا زائرین ہونگے جرمانے اسی تعداد کے حساب سے کئے جائینگے۔مقامی ذرائع کے مطابق محکمہ پاسپورٹ نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی کہ اگر کوئی شخص سعودی عرب سے باہر جانے کا ویزہ لے کر گیا ہو اور واپسی کا ویزہ نہ لیا ہو تو سعودی عرب سے باہر رہ کر وہ اس ویزے میں کوئی تجدید نہیں کرا سکتا اور نہ ہی واپسی کا ویزہ وہاں سے لگوا سکتا ہے ۔

ان افراد کو نئے سرے سے ویزہ لینا ہو گا۔ جوازات کا مزید کہنا ہے کہ اگر مملکت میں اقامے پر موجود کوئی خاتون ویزہ لیکر سعودی عرب سے باہر گئی ہو اور وہیں اسکے یہاں ولادت ہوئی ہو تو ایسی صورت میں نومولود کو ماں کے ویزے پر سعودی عرب لانے کی سہولت حاصل ہوگی تاہم اسکی الگ سے فیس لی جائیگی۔ اس کے علاوہ انکا کہناہے کہ اگر ریکارڈ کے مطابق گھریلو ملازم اپنے مالک کے تابع ہو تو ایسی صورت میں اس سے فیملی فیس ہر قیمت پر وصول کی جائیگی۔

اس سے اسے کوئی استثنیٰ نہیں ہوگا۔ سعودی عرب میں 20لاکھ کے لگ بھگ گھریلو ملازمین رہائش پذیر ہیں۔ جن میں سے 62 فیصد خواتین ہیں۔ سعودی محکمہ پاسپورٹ کا کہناہے کہ پاسپورٹ ختم ہونے کے ایک برس کے اندراندر اس میں توسیع کرائی جاسکتی ہے۔ محکمے نے یہ بھی بتایا کہ اگر کسی شخص پر ٹریفک خلاف ورزیوں کی وجہ سے جرمانے ہوں تو ایسی صورت میں وہ اپنے تابع کا پاسپورٹ جاری کراسکے گا خلاف ورزیوں کا ریکارڈ پر ہونا پاسپورٹ کے اجراء میں رکاوٹ نہیں بنے گا۔