آئی کیپ کے تحت تیسری پبلک فنانس منیجمنٹ کانفرنس کا انعقاد، مالیاتی ماہرین کا عوامی پیسے کے مؤثر استعمال پر زور

جمعہ مئی 17:42

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) مالیاتی ماہرین نے کہا ہے کہ عوامی پیسہ کے مؤثر استعمال سے حکومتی تمام کاموںبشمول وسائل کے صحیح استعمال، منصوبہ سازی، انسداد کرپشن،، بہتر خدمات اور لوگوں کی زندگیاں بہتر بنانے میں بہت مدد مل سکتی ہے۔ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کے تسلسل کے لیے ایک بہت اعلیٰ پبلک فنانشل منیجمنٹ سسٹم اور ایسے اداروں کی موجودگی ناگزیر ہے جو شفافیت، احتساب اور بچت جیسے اصولوں پر کاربند ہو۔

عوام کے پیسے کا بہتر استعمال گڈ گورننس کا ایک اہم جز ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (آئی کیپ) کے تحت اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ تیسری پبلک فنانس منیجمنٹ (پی ایف ایم) کانفرنس کے مختلف سیشنز سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

کانفرنس چارٹرڈ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک فنانس اینڈ اکاؤنٹنسی (سپفا) کے تعاون سے منعقد کی گئی۔

کانفرنس، گڈ گورننس، ہیلپنگ ڈیلیور بیٹر پبلک سروسز کے تھیم پر منعقد ہوئی تھی۔ ایونٹ میں 400سے زائد مالیاتی ماہرین نے شرکت کی۔ ایونٹ گزشتہ چند سالوں میں بزنس پروفیشنلز، پبلک سیکٹر اور انڈسٹری کے لوگوں کو پبلک فنانشل منیجمنٹ کے چیلنجز سے نمٹنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کرنے کا بھرپو رموقع فراہم کرتا ہے۔ کانفرنس کا مقصد یہ جاننا اور بحث کرنا تھا کہ عوام کے پیسے کے مؤثر طور پر استعمال کی بدولت عوام کی زندگی بہتر بنانے میں تمام حکومتی امور بشمول وسائل کی تقسیم، پالیسی سازی، فراڈ کے خلاف کوششوں، بہتر خدمات اور اس کے بہتر نتائج وصول کیے جا سکتے ہیں۔

اس کانفرنس کے انعقاد کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ گڈ گورننس اور پبلک فنانشل منیجمنٹ کے ذریعے کیسے تمام حکومتی امور کو دنیا بھر اور پاکستان میں بھی بہتر طریقے سے انجام دیا جا سکتا ہے۔ اپنے افتتاحی خطاب میں صدر آئی کیپ ریا ض رحمان چامڈیا نے کہا کہ مضبوط پبلک فنانشل منیجمنٹ سپورٹ ، ایگری گیٹ کنٹرول، نجکاری،، شفافیت، معاشی نمو اور عوامی وسائل کا مؤثر استعمال و سروس ڈیلیوری میں بہت مددگار ہوتا ہے جو کسی بھی حکومت یا ملک کے پبلک پالیسی اہداف کے حصول کے لیے ناگزیر ہے۔

ریاض رحمان چامڈیا نے کہا کہ سروس ڈیلیوری میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور ملک کے سازگار ماحول بنانے کے لیے مضبوط پبلک سروس کا ہونا بہت ضروری ہے۔ پاکستان میں پبلک ڈیلیور سسٹم نے بھی ورلڈ بینک کے مالی تعاون سے چلنے والے منصوبے پفرا کی بدولت بہت کامیابی حاصل کی ہے۔ پرائیویٹ پبلک پارٹنرشپ پبلک سروس ڈیلیوری کا ایک بہت مؤثر ذریعہ ہے جس سے معاشی ترقی بھی ملتی ہے اور روزگار کے مواقع بھی، جس سے پھر غربت کے خاتمے میں مدد ملتی ہے۔

پاکستان کے تقریبا تمام صوبوں میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبے کامیابی سے جاری ہیں۔ اس سے قومی معیشت کو بھی سہارا ملا ہے۔ چیئرمین پی ایف ایم کانفرنس کمیٹی راشد ابراہیم نے کانفرنس کے تھیم پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پبلک فنانشل منیجمنٹ بہتر انتظام، حکومت کی اسکروٹنی، وسائل کے مؤثر استعمال اور غربت کے خاتمے کے لیے انتہائی اہم ہے۔

آڈیٹر جنرل، کنٹرولر جنرل، وزارت خزانہ، پارلیمنٹرینز اور سول سائٹی سمیت تمام تنظیموں کو مل کر کام کرنا ہو گا، یہ اشتراک بہت اہم ہے۔ مقررین نے کہاکہ اہم اداروں کو چاہیے کہ وہ اپنی استعدادو قابلیت بڑھائیں۔ مؤثر پبلک فنانشل منیجمنٹ نظام کے قیام کے لیے سیاسی قوتوں کا بھی تعاون حاصل ہونا چاہیے۔ صدر سپفا اینڈریو برنس نے اپنی تنظیم کا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ یہ 130 سال قبل 1885 میں بننے والی عالمی تنظیم ہے جو پبلک فنانس میں کام کرنے والے اور زیرتربیت افراد،قومی اداروں، بڑی اکاؤنٹنسی فرمز، مقامی حکومتوں کے ادارے کے ساتھ روابطہ برقرار رکھے ہوئے ہیں تاکہ عوامی رقوم کا صحیح استعمال ہو۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا حق و انصاف کی فراہمی میں انتہائی اہم کردار ہے۔ ان سب کو نفع کمانے کے علاہ عوام کی صحت کا بھی خیال کرنا چاہیے۔ انہوںنے آئی کیپ کے کردار کی تعریف کی اور کہا کہ وہ حکومت ، سروس ڈیلیوری کے اداروں کے درمیان روابط کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔ سیمینار میں مختلف پینل ڈسکشنز بھی ہوئے۔ پہلے مباحثے کی میزبانی سینئر پارٹنر ڈیلوٹی اسد علی شاہ نے کی۔

اس میں تعلیم،، صحت اور انفرااسٹرکچر کے شعبوں میں نجی الائنسز کے ساتھ اشتراک میں صوبائی حکومتوں کے کردارپر روشنی ڈالی گئی۔ مقررین میں سیکریٹری پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ پنجاب افتخار علی سہو، پی پی پی یونٹ سندھ کے علی سبطین، سیکریٹری پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ کے پی کی ظاہر شاہ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر نیپرا سلمان امین اور صدر سپفا اینڈریو برنس شامل تھے۔

اپنے خطاب میں سابق صدر آئی کیپ اسد علی شاہ نے کہا کہ نجکاری کا اب کافی ٹرینڈ بن گیا ہے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ میں کروڑوں ڈالرز کے منصوبے چل رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس میں کچھ مسائل بھی ہورہے ہیں لیکن مجموعی طور پر اس کے بہت مثبت نتائج مل رہے ہیں۔ دوسرے سیشن میں سابق ایڈیشنل آڈیٹر جنرل عبدالبصیر نے سرکاری اداروں میں انٹیگریٹڈ رپورٹنگ کے موضوع پر اظہار خیال کیا۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی منصوبے کو پورا شروع کرنے سے پہلے اس کا پائلٹ پروجیکٹ کیا جانا چاہیے تاکہ اس کے مسائل کااندازہ ہو جائے اور کسی بھی ایسے منصوبے کی عوام میں مارکیٹنگ کرنا بھی بہت ضروری ہے تاکہ اس سے فائدہ حاصل کرنے والے لوگوں کو اس کی معلومات ہو۔ تیسرے سیشن میں نیب کے ڈپٹی ڈائریکٹر سردار عدنان عالم نے سرکاری کاموں میں انسداد کرپشن و فراڈ کے موضوع پر پریزینٹیشن دی اور اس حوالے سے موجود قوانین کے بارے میں بھی بتایا۔

تیسرے پینل کی میزبانی کونسل ممبر آئی کیپ و پارٹنر ڈیلیوٹی پاکستان رانا محمد عثمان خان نے کی۔ دیگر پینلسٹ میں ایم این اے اسد عمر،، ڈی جی نیب ناصر اقبال، ڈی جی اے جی پی محفوظ علی بھٹی اور سی جی اے کے نمائندے شامل تھے۔ کانفرنس سے سپفا کے ہیڈ آف انٹرنیشنل افیئرز گیلیان فوسیٹ، ورلڈ بینک کے اخرام الشوربجی اور عبداللہ یوسف نے بھی خطاب کیا۔