مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے،

بھارت دانستہ طور پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے، امید ہے مستقبل قریب میں متعلقہ جماعتوں اور اقوام متحدہ کے تعاون سے مسئلہ کشمیر کا سیاسی و سفارتی حل تلاش کر لیا جائے گا، جنوبی و شمالی کوریا اور امریکہ کے مابین تنازعات کے پرامن سیاسی حل سے کشمیریوں کو بھی حوصلہ ملا ہے صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان کا کیپٹل ہل واشنگٹن میں 27ویں سالانہ پاک امریکہ فرینڈشپ تقریب سے خطاب

جمعہ مئی 17:49

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے امید ظاہر کی ہے کہ مستقبل قریب میں متعلقہ جماعتوں اور اقوام متحدہ کے تعاون سے مسئلہ کشمیر کا سیاسی و سفارتی حل تلاش کر لیا جائے گا۔ یہاں موصولہ پریس ریلیز کے مطابق کیپٹل ہل واشنگٹن میں پاکستانی و امریکن کانگریس کی جانب سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مسعود خان نے کہا کہ قبل ازیں جنوبی و شمالی کوریا اور متحدہ ریاست ہائے امریکہ کے مابین جاری تنازعات جو کہ سنگین صورتحال اختیار کر چکے تھے، کے پرامن سیاسی حل کی کامیابی سے کشمیریوں کو بھی حوصلہ ملا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بعض عناصر یہ تاثر دے رہے ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ حل نہیں کیا جا سکتا جبکہ ایسا نہیں ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ کشمیری اپنے حق خودارادیت کیلئے ایک پرامن جدوجہد کر رہے ہیں اور وہ اپنی اس جدوجہد کو اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک انہیں حق خودارادیت مل نہیں جاتا۔ کیپٹل ہل واشنگٹن میں منعقدہ پاکستان امریکن کانگریس (پی اے سی) کی جانب سے 27ویں سالانہ پاک امریکہ فرینڈشپ کی تقریب میں صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔

تقریب میں ایمبسیڈر اعزاز احمد چوہدری اور امریکن کانگریس کے ممبران کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔ پاکستان و امریکی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ امریکہ کو کشمیریوں کی حالت زار اور ان کہ جدوجہد آزادی کو سمجھنا چاہئے کیونکہ خود امریکہ نے بھی ایک طویل اور سخت جدوجہد کے ذریعے ہی آزادی حاصل کی تھی۔ انہوںنے کہا کہ کشمیر اور پاکستان کے عوام مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کے حل کیلئے امریکہ کی توجہ اور تعاون چاہتے ہیں کیونکہ امریکہ کے اس خطہ کے ساتھ تاریخی تعلقات رہے ہیں اور ماضی میں بھی امریکہ نے کشمیرکے مسئلے کا سفارتی حل ڈھونڈنے کے لئے کو ششیں کی ہیں۔

صدر آزادجموں وکشمیر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں، بالخصوص جولائی 2016ء کے بعد مقبوضہ کشمیر کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس کے مطابق سینکڑوں کشمیریوں جن میں زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہے، کوقتل کر دیا گیا جبکہ ہزاروں کی تعداد میں زخمی کئے جا چکے ہیں اور 1400 کشمیریوں جن میں بچے بھی شامل ہیں، کو بینائی سے مکمل یا جزوی طور پر معذور کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حال میںہی بھارت نے جان بوجھ کر کشمیری نوجوانوں کا اجتماعی قتل عام کیا ہے جو بھارتی ریاستی دہشت گردی اور درندگی کی بدترین مثال ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ بھارتی قابض افواج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے جو کہ نسلی بنیادوں پر معصوم کشمیریوں پر ظلم و جبر روا رکھے ہوئے ہیں جو انسانیت کے خلاف جرائم ہیں اور بھارتی افواج کو ان سنگین جرائم کے ارتکاب پر ہر قسم کی پراسیکوشن اور پوچھ گچھ سے مکمل طور پر استشنیٰ حاصل ہے اور انہیں معصوم کشمیریوں پر ظلم و جبرکے پہاڑ توڑنے کی کھلی آزادی دیدی گئی ہے۔

صدر مسعود خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جغرافیائی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں وہاں آبادی کے تناسب کو ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت تبدیل کیا جا رہا ہے جو فورتھ جنیوا کنونشن اور ایڈیشنل پروٹوکولI-، بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین ، آئی سی سی سٹیچیوٹ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد وں اور ہیومن رائٹس رپورٹس کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی مقبوضہ علاقہ سے آبادی کی منتقلی اور آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کیلئے نو آبادکاری بین الاقوامی قوانین کے تحت منع ہے اور بھارت دانستہ طور پر ان قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ بھارت نے کشمیر میں تین نکاتی پالیسی کو اپنا رکھا ہے کہ اول کشمیریوں پر ناقابل برداشت ظلم و جبر ڈھایا جائے ۔

دوسرا کشمیر ی حریت رہنمائوں سے مسئلہ کشمیرپر کسی قسم کی کوئی بات چیت نہ کی جائے اور تیسرا پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے تمام دروازے بند کر دیئے جائیں۔ صدر آزادجموں و کشمیر نے کہا ہے کہ کشمیر اور پاکستان کے لوگ اس بات پریقین رکھتے ہیں کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں ڈھایا جانے والے ظلم و جبر ، انتہائی پسندی و ریاستی دہشت گردی سے مسئلہ کشمیر کبھی حل نہیں ہو گا چاہے جیسے بھی حالات ہوں۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا پرا من سیاسی و سفارتی حل کیلئے کوشاں ہیں۔ صدر مسعود خان نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں اور تشویشناک صورتحال کو حل کرنے کیلئے 6 نکاتی فارمولہ بھی پیش کیا ہے کہ سیکورٹی کونسل کو مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کشمیر کے لوگوں کو حق رائے دہی کے استعمال کیلئے استصواب رائے یاریفرنڈم کروانے پر غور و خوض کرنا چاہئے۔

اس اثناء میں پاکستان اور بھارت کے لئے اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ کو لائن آف کنٹرول کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کی نگرانی کئے جانے کی ذمہ داری بھی سونپی جاتی ہے۔ بھارت کو کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تسلیم کرنا چاہیے اور دیگر جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کیلئے کو ششیںکرنی چاہئے اس مقصد کیلئے بھارت کو پاکستان اور کشمیری رہنمائوں کے ساتھ کھلے اور بامقصد مذاکرات کرنے چاہئیں۔

بھارت کو اپنی مسلح افواج، سنٹرل ریزرو فورس اور سرحدی سیکورٹی فورس کو شہروں و آبادی والے مراکز سے نکالنا چاہئے۔ بھارت کو پبلک سیفٹی ایکٹ اور آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ جیسے غیر قانونی اور کالے قوانین کو ختم کرنا چاہئے جن سے بھارت کی مسلح افواج کو جرائم کے ارتکاب کی کھلی چھٹی دی گئی ہے۔ ہائی کمشنر انسانی حقوق زیدرعدالحسین کی تجویز کے مطابق بھارت کو اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کو نسل کومقبوضہ کشمیر تک رسائی فراہم کرنی چاہئے۔

صدر نے اس بات پر زور دیا کہ مسئلہ کشمیر پاکستان،، بھارت اور کشمیریوں کے مابین ایک بین الاقوامی تنازعہ ہے اور جموں و کشمیر کے لوگ اس مسئلے کے بنیادی فریق ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری ایک پرامن اور امن پسند لوگ ہیں جو دہشت گردی کے خلاف ہیں اور کشمیر ی ہرگز نہیں چاہتے کہ مسئلہ کشمیر دو ایٹمی طاقتوں پاکستان اور بھارت کے درمیان فلیش پوائنٹ بنے بلکہ وہ پورے ایشیاء کے لئے رابطے، امن و سلامتی اور ہم آہنگی کے فروغ کے لئے اس مسئلے کے سیاسی و سفارتی حل کے خواہاں ہیں ۔

صدر نے کہا کہ ماضی میں پاکستان اور امریکہ عظیم اتحادی رہے ہیںاور انہیں بھر پور کو شش کرنا ہو گی کہ و ہ اپنے تعلقات کو ٹریک پر واپس لائیں ۔سرد جنگ کے دوران دونوں ممالک کی شراکت، 1980ء کی دہائی میں افغان جنگ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دونوں ممالک کا اشتراک اور باہمی تعاون ہماری میراث اور اپنی مثال آپ ہے اور اس کو ضائع نہیں ہو نا چاہیے ۔

انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات افغانستان کی سیکورٹی صورتحال سے متاثر ہوئے ہیں ۔ انہوں نے دونوں ممالک کو مشورہ دیا کہ وہ معاشی ، تعلیمی، سائنسی ، تکنیکی اور ثقافتی معاملات میں اپنے پرانے تعلقات کو پھر سے بحال کریں جو کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر اعزاز احمد چوہدری نے بھی اس موقع پر پاکستانیوں اور امریکیوں پر زور دیا کہ وہ پاکستان اور ریاست ہا متحدہ امریکہ کے مابین تعلقات اور باہمی تعاون کو فروغ دینے میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔

اس موقع پر دیگر شرکاء نے بھی خطاب کیا جن میں نیو یارک سے کانگریس مین ٹام سوزی ،نیو جرسی سے کانگریس مین ڈونلڈ نورکراس ،کلوراڈو سے کانگریس مین مائیکل کاف مین اور کانگریس ویمن شیلا جیکسن ،مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ سے پروفیسر ماروین مین بوم، چئیرمین واشنگٹن ٹائمز تھامس میکڈیوٹ اور ڈپٹی ڈائریکٹر پاکستان ڈیسک سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کورٹنی ڈن بھی شامل تھے۔ جملہ شرکاء نے پی اے سی کو کامیاب تقریب کے انعقاد پر مبارکباد دی کہ یہ تقریب پاکستان کے معاملات کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ پاکستان اور امریکی کانگریس کے مابین دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے میں سنگ میل ثابت ہو گی۔