مقبوضہ کشمیر‘آزادی پسند تنظیموں اور رہنمائوں کا بھارتی فوج کے سربراہ کے بیان پر سخت ردعمل

بھارت کو کشمیریوں کی جدوجہد کے آگے ایک روز سر تسلیم خم کر کے جموں وکشمیر سے نکلنا پڑے گا‘کشمیریوں نے ناجائز اور غیر قانونی تسلط سے آزادی پانے کی ٹھان رکھی ہے اور کشمیری کبھی بھی بھارتی طاقت کے سامنے سرنگوں نہیں ہوںگے‘ یاسین ملک

جمعہ مئی 18:13

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیر میں آزادی پسند رہنمائوں اور تنظیموں نے کشمیر کے حوالے سے بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت کے حالیہ بیان پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کو کشمیریوں کی جدوجہد کے آگے ایک روز سر تسلیم خم کر کے جموں وکشمیر سے نکلنا پڑے گا۔ جنرل راوت نے نئی دہلی میں ایک میڈیا انٹرویو میں کشمیریوں کی آزادی کے امکان کو مسترد کردیاتھا۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق جموںوکشمیر لبریشن فرنٹ کے غیر قانونی طور پر نظر بند چیئرمین چیئرمین محمد یاسین ملک نے ایک بیان میں جنرل راوت کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جلد یا بدیر بھارت کو جموں کشمیر پر قائم اپنا غیر قانونی تسلط ختم کرنا پڑے کیونکہ فتح بالآخر سچائی کی ہوا کرتی ہے فوجی طاقت کی نہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اگر بھارتی آرمی چیف کے آزادی سے متعلق بیان میں کچھ حقیقت ہوتی تو آج بھی نصف سے زائد دنیا بشمول بھارت برطانوی تسلط میں ہوتا۔

محمد یاسین ملک نے کہا کہ کشمیریوں کے نام دھمکی آمیز بیانات جاری کرنے سے قبل جنرل راوت کو بنیادی تاریخ حقائق ذہن میں رکھنے چاہئیں کیونکہ جس قوم نے غیر ملکی تسلط سے آزادی حاصل کرنے کا عزم کر رکھا ہو اٴْسے دھمکیوں اور دھونس سے دبانا ممکن نہیں ہوتا۔ محمد یاسین ملک نے کہا کہ بھارتی فورسز نے آج تک لاکھوں کشمیریوںکو شہید اورہزاروں کو لاپتہ کیا ہے اور اب جنرل راوت کشمیریوں کو مذید طاقت کے استعمال کی دھمکی دے کر دراصل اپنے ملک کے چہرے پر ڈالے گئے جمہوریت کے پردے کو چاک کر رہے ہیں۔

محمد یاسین ملک نے کہا کہ کشمیریوں نے ناجائز اور غیر قانونی تسلط سے آزادی پانے کی ٹھان رکھی ہے اور کشمیری کبھی بھی بھارتی طاقت کے سامنے سرنگوں نہیں ہوںگے۔ میر واعظ عمر فاروق کی سربراہی میں قائم فورم نے کشمیر کے حوالے سے بھارتی فوج کے سربراہ جرنل بپن راوت کے حالیہ بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی فورسز نے سو برس سے زائد وقت تک بھارت پر حکمرانی کی اور ہزاروں بھارتیوں کو قتل اور جلیاںنوالہ باغ جیسے قتل عام کیے لیکن انہیں بالاخر یہاں سے جانا پڑا کیونکہ عوام کی آزادی کی خواہشات فوجی قوت سے زیادہ طاقتور ہو تی ہیں۔