قومی اسمبلی بجٹ اجلاس میں ایک بار پھر کورم حکومت کے آڑے آگیا

وفاقی وزیر خزانہ بجٹ پر عام بحث کورم پورا نہ ہونے کی نشاندہی کے باعث نہ سمیٹ سکے،مفتاح اسما عیل نے بجٹ پر تقریر شروع کی تو شیریں مزاری نے کورم کی نشاندہی کر دی،دیگر اپوزیشن جماعتوں کی کورم پوائنٹ آئوٹ کرنے کی مخالفت ڈپٹی سپیکر نے کورم پورا نہ ہونے پر اجلاس پیر کی شام 5بجے تک ملتوی کر دیا، مفتاح اسماعیل بجٹ پر عام بحث اب پیر کو سمیٹیں گے

جمعہ مئی 18:18

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں ایک بار پھر کورم حکومت کے آڑے آگیا۔وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل بجٹ پر عام بحث کورم پورا نہ ہونے کے باعث نہ سمیٹ سکے،مفتاح اسما عیل نے بجٹ پر تقریر شروع کی تو پی ٹی آئی کی ڈاکٹر شیریں مزاری نے کورم کی نشاندہی کر دی جس کی دیگراپوزیشن جماعتوں نے مخالفت کی اور کہا کہ بجٹ اجلاس میں کورم کی نشاندہی پارلیمانی روایت نہیں،ڈپٹی سپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی نے گنتی کے بعد کورم پورا نہ ہونے پر اجلاس پیر کی شام 5بجے تک ملتوی کر دیا ،اب وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل بجٹ پر عام بحث پیر کو سمیٹیں گے۔

جمعہ کو قومی اسمبلی میں مالی سال 2018-19کے بجٹ پر سینیٹ کی جانب سے دی گئی سفارشات پر بحث ہوئی بحث مکمل ہونے کے بعد ڈپٹی سپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی نے بجٹ بحث سمیٹنے کیلئیوفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو مائیک دیا،وفاقی وزیر خزانہ نے ابھی تقریر شروع کی تو پاکستان تحریک انصاف کی ڈاکٹر شیریں مزاری نے کورم کم ہونے کی نشاندہی کر دی،جس پر ڈپٹی سپیکر نے گنتی کی ہدایت کی اس دوران قومی وطن پارٹی کے آفتاب خان شیرپائو نے احتجاج کیا اور کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں یہ روایت نہیں کہ بجٹ کے دوران کورم کی نشاندہی کی جائے،،پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر نے بھی ڈاکٹر شیریں مزاری کو کورم کی نشاندہی سے روکا مگر انہوں نے کورم پوائنٹ آئوٹ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے بھی ہم بجٹ اجلاس کے دوران کورم پوائنٹ آئوٹ کر چکے ہیں،حکومت نے اگر بجٹ منظور کروانا ہے تو پہلے اپنے ارکان کو ایوان میں لائے۔

(جاری ہے)

ڈپٹی سپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی نے گنتی کے بعد کورم پورا نہ ہونے پر اجلاس پیر کی شام 5بجے تک ملتوی کر دیا اب وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل بجٹ پر عام بحث پیر کو سمیٹیں گے۔