مظفرآباد ‘وزیراعظم فاروق حیدر کی اپیل پرمقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشتگردی ‘

نہتے کشمیریوں کے قتل کیخلاف عالمی دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر پر مبذول کروانے کیلئے آزاد ریاست بھر میں بھرپور انداز سے’’ یوم سوگ‘‘ منایا گیا

جمعہ مئی 18:32

مظفرآباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان کی اپیل پرمقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشتگردی نہتے کشمیریوں کے قتل عام ، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں ، پیلٹ گن کے استعمال کے خلاف عالمی دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر پر مبذول کروانے کیلئے گزشتہ روز آزادکشمیر بھر میں بھرپور انداز سے’’ یوم سوگ‘‘ منایا گیا ۔

آزادکشمیر بھر میں جمعتہ المبارک کے موقع پر مساجد شریف میں علماء کرام، مشائخ عظام نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت اور ظلم و ستم کی بڑھتی ہوئی کاروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نہتے کشمیری عوام کو فوری طور پر عالمی قوانین کے مطابق انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا ۔ جبکہ دارالحکومت مظفرآباد میں دربار عالیہ سائیں سہیلی سرکارؒ میں جمعتہ المبارک کے عظیم الشان روح پرور ایمان افروز اجتماع میں بھارتی مظالم کی مذمت کرتے ہوئے پوری قوم کو بھارت کیخلاف فیصلہ کن جدوجہد کیلئے اسلامی تعلیمات کے مطابق خطیب جامعہ مسجد علامہ روحیل عباسی نے مفصل اظہار خیال کیا۔

(جاری ہے)

یوم سوگ اور جمعتہ المبارک کی ادائیگی کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی آزادکشمیر کے مرکزی سیکرٹری ریکارڈ شوکت جاوید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اس وقت اقوام متحدہ کے چارٹر ، سیکورٹی کونسل کی قراردادوں اور اپنے وعدوں کو پائوں تلے روندھ کر صرف اور صرف طاقت کا استعمال کر رہا ہے۔ مقبوضہ وادی میں نہتے کشمیریوں کو آزادی کی پاداش میں گاجر مولی کی طرح کاٹا جا رہا ہے اور دنیا خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جارحانہ بنیاد پرست پالیسیاں بھارت کیلئے اسے سابق روسی صدر گورباء چوف کی طرح کی تاریخ میں محفوظ رکھیں گے اس لئے اس وقت بھارت میں درجنوں علیحدگی کی تحریکیں اپنے عروج پر ہیں جبکہ تحریک آزادی کشمیر نہ تو علیحدگی کی تاریخ ہے نہ مذہبی اور نہ زمینی تنازعہ ہے یہ خالصتا خودروپودوں کی طرح چلنے والی جمہوری آزادی کی تحریک ہے اس لئے اقوام عالم کو آزادی اور علیحدگی کی تحریکوں میں واضح دو ٹوک تمیز کرنا پڑیگی ۔

شوکت جاوید نے یوم سوگ کے موقع پر مزید کہا کہ حکومت کو بغیر تیاری کے اس طرح کی غیر سنجیدہ کالیں دینے سے اجتناب کرنا چاہئیے جو ان کے اپنے لئے مذاق اور قوم کیلئے جگ ہنسائی کا باعث بنے ۔ اس لئے لازم ہوتا ہے کہ کسی کال سے قبل وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان تمام سیاسی جماعتوں سے ہوم ورک کے ذریعے اعتماد سازی کی فضا پیدا کیا کریں ، عجلت میں کئے گئے فیصلوں کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑتا ہے اور ازلی دشمن بھارت اس کے اپنے مقاصد کیلئے کو توڑ موڑ کر اسے پیش کرتا ہے جس سے مقدس مشن کو زک پہنچتا ہے شوکت جاوید نے کہا کہ لائن آف کنڑول اور ورکنگ بائونڈری پر جس طرح بھارت نے عسکری جارحیت کا ارتکاب کر کے اپنے توسیع پسندانہ عزائم اور جنگی ماحول پیدا کرنے کا تواتر سے ماحول بنانا شروع کر رکھا ہے وہ آخر کار عالمی امن کو تہس نہس کرنے کیلئے ایک چنگاری کی مانند ثابت ہو سکتا ہے۔