قوم کی تقدیر کا فیصلہ خلائی مخلوق نے نہیں خدائی مخلوق نے کرنا ہے،عرفان صدیقی

انتخابات سے پہلے بڑھ بڑھ کر نعرے لگانے والے عمران خان انتخابات قریب آتے ہی گھبرا جاتے ہیں چیئرمین نیب کی ساکھ ختم ہوچکی انہیں مستعفی ہو جانا چاہیئے ، مشیر وزیر اعظم کی صحافیوں سے گفتگو

جمعہ مئی 18:36

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) وزیر اعظم کے مشیر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ آئندہ سیاسی قیادت کا فیصلہ انتخابات کے ذریعے ہوگا اور یہ فیصلہ خلائی یا کسی اور مخلوق نے نہیں بلکہ خدائی مخلوق نے کرنا ہے ۔

(جاری ہے)

یہ بات انہوں نے نیشنل بک فائونڈیشن کے زیر اہتمام دو روزہ کتاب میلے کی افتتاحی تقریب کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، انہوں نے کہا کہ عوامی فیصلوں کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا یا انہیں اپنی مرضی کا رنگ دینے کی کوشش کرنا جمہوریت اور ملکی مفاد کے خلاف ہے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آنیوالی قیادت کا فیصلہ کسی خلائی مخلوق نے نہیں بلکہ خدائی مخلوق نے کرنا ہے اور قائداعظم کا قول ہے کہ عوامی رائے کبھی غلطی پر نہیں ہوتی، انہوں نے کہا کہ ساری پٹیشنز ، سارے ریفرنسز یا از خود نوٹسز دو ماہ بعد ختم ہوجائیں گے، جب عوام الیکشن کے دن از خود نوٹس لیتے ہوئے فیصلہ کریں گے کہ وہ کسے ملک کی قیادت سونپنا چاہتے ہیں، عرفان صدیقی نے کہا کہ عوام نے کسی وکٹ کو نہیں بیانیئے کو ووٹ دینا ہے اور کارکردگی پر فیصلہ سنانا ہے تینوں بڑی جماعتیں ن لیگ،، پی پی پی اور تحریک انصاف اب عوام کی عدالت میں ہیں انہیں اپنا نامئہِ اعمال بھی پیش کرنا ہے اور 70سال سے جاری ووٹ کی بے توقیری کے بارئے میں فیصلہ بھی سنانا ہے عرفان صدیقی نے کہا کہ الیکشن میں ایک دن کی تاخیر بھی جمہوری عمل کے لیئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے ڈیڑھ دو ماہ الیکشن ملتوی کردینے کے عمران خان کے مطالبے پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے عرفان صدیقی نے کہا خان صاحب ایسے کھلاڑی ہیں جو الیکشن شروع ہونے سے پہلے بڑے نعرے لگاتے ہیں اور یوں ہی میچ شروع ہوتا ہے ان کے ہاتھ پائوں پھول جاتے ہیں اور دل کے دورے پڑنے شروع ہو جاتے ہیں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے بارئے میں نیب کے حالیہ پریس ریلیز کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم کے مشیر نے کہا کہ نیب کا پریس ریلیز انتہائی افسوس ناک ، لغو اور فتنہ انگیز پریس ریلیز تھا ایک ایسے شخص پر جو تین دفعہ ملک کا وزیر اعظم رہ چکا ہو 5ارب ڈالر بھارت کو بھیجنے کا بے بنیاد اور من گھڑت الزام لگانا ہر اعتبار سے قابل مذمت ہے چیئرمین نیب کو چاہیئے کہ وہ نواز شریف کے مطالبے کے مطابق اٹھائے گئے سوال کا جواب دیں اور قوم سے معافی مانگیں وہ اپنی ساکھ مکمل طور پر کھو چکے ہیں اس لیئے انہیں بلا تاخیر مستعفی ہو کر گھر چلے جانا چاہیئے۔