اسلام پر امن محبت و ایثار اور فلاح انسانیت کا عالمگیر دین ہے، شیخ خالد عبدالقادر المنصور الجیلانی

جمعہ مئی 18:50

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، جہاں امن و محبت ایثار، بھائی چارگی، فلاح انسانیت کے ساتھ ساتھ عشق مصطفی ؐ اور احکام خداوندی پر عمل کر کے دنیا و آخرت میں کامیابی و کامرانی کا وہ چشمہ پھوٹتا ہے جس سے پوری دنیا سیراب ہو رہی ہے، اسلام میں دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور اب وہ وقت قریب آرہا ہے جب دنیا میں سب سے زیادہ تعداد مسلمانوں کی ہوگی۔

دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ تیزی سے پھیلتا ہوا دین ، دین حق اسلام ہے، اسلام جہاں مسلمانوں کی بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے وہیں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا ضامن ہے۔ ان خیالات کا اظہار شیخ خالد عبدالقادر المنصور الجیلانی نے حاجی محمد رفیق پردیسی کی جانب سے دیئے گئے استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ہم اپنے برادر اسلامی ملک پاکستان کے لئے محبت اور یکجہتی کا پیغام لائیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عراق اور پاکستان کی دوستی لازوال ہے، شیخ خالد عبدالقادر المنصور الجیلانی نے مزید کہا کہ پاکستان کے طول و عرض میں حاجی محمد رفیق پردیسی کی قرآنی تعلیم،، ناظرہ اور حفظ قرآن اور دنیاوی تعلیم کیلئے کاوشیں قابل ستائش ہیں، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محسن اہلسنت خادم پاکستان،، حاجی محمد رفیق پردیسی نے کہا کہ شیخ خالد عبدالقادر المنصور الجیلانی کا پاکستان میں قدم رنجہ فرمانا پاکستانی اسلامی بھائیوں سے یکجہتی اور محبت کا فقید المثال اظہار ہے۔

مسلمان کہیں بھی رہتے ہوں ان کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں اور یہ باہمی رشتہ اسلامی کو وہ ہمالیہ سے زیادہ بلند ہے۔ مفتی وسیم ضیائی نے کہا کہ اسلام ضبط برداشت اور میانہ روی کا درس دیتا ہے اسلام کی سربلندی میں غو ث الاعظم کی تعلیمات لازاوال ہیں، انہوں نے کہا کہ غوث الاعظم دستگیر کی درویشی میں شہنشاہی تھی، ان کی قلندری میں شان سکندری تھی ، ان کی ذات بابرکات سے بوریانشینوں اور فاقہ مست افراد کے درد کا درماں ہوتا تھا، وہ شبنم بن کر جگر لالہ میں ٹھنڈک پیدا کر سکتے تھے تو دین کی بالا دستی اور ظلم جبرو کے خاتمے اور اس کے سد باب کے لئے طوفان بن کر دلوں کو دہلا بھی سکتے تھے۔

اسی بناء پر وہ عوام و خواص دونوں کا مرجع بن گئے یہی وجہ ہے کہ وقت کے فرماں روا اور سلاطین بھی ان کا دامن پکڑنے اور ان کی خدمت میں حاضری کی سعادت گردانتے تھے۔ استقبالیہ تقریب میں حاجی رفیق گریس، حاجی انیس پردیسی، سراج ناگریا، محمد حسنین پردیسی، محمد حسان پردیسی، محمد حماد پردیسی، محمد عامر قادری، عبدالغفار پردیسی، محمد روفی، ملک محمد حسین، عزیر پردیسی، عمیر پردیسی، زبیر عالم قادری، منصور حسن قادری، سلمان پٹنی، پرویز اقبال آرائیں، محمد رضوان میڈیکل والانے خصوصی شرکت کی جبکہ خاور نقشبندی ، محمود الحسن، اسلم حسانی نے بارگاہ رسالت میں گلہائے عقیدت پیش کئے۔