امراض سے پاک دنیا کا تصور نرس کے بھرپورکردار کے بغیر ادھورا ہے ، ثمینہ یاسمین

جمعہ مئی 19:24

لاہور۔11 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) صحت کے شعبہ کو اکیسویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کا خواب نرسوںکے نمایاں کردار کے بغیر شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔امراض سے پاک دنیا کا تصور نرس کے بھرپور کردار کے بغیر ممکن نہیں ۔ صحت کے شعبے میں خدمات انجام دینے والی ورک فورس میںسے نرسوں کو اس شعبے کے مسائل کا سب سے زیادہ ادراک ہے۔

لہٰذا نرسوں کو شعبہ صحت میں فیصلہ سازی کے عمل میں بھر پور حصہ دینا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ پاکستان میں نرسنگ کے شعبے کی توقیر اور نرسوں کی ترقی کیلئے ابھی بہت زیادہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ انسانی جان جیسی قیمتی شے کی حفاظت پر مامور نرسوں کیلئے سہولیات ، احساس تحفظ اور سروس سٹرکچر کی بہتری ان کا بنیادی حق ہے ،ان خیالات کا اظہار ورلڈ نرسنگ ڈے کے موقع پر چیف نرسنگ سپرنٹنڈنٹ سروسز ہسپتال ثمینہ یاسمین ، قائم مقام پرنسپل نرسنگ کالج جنرل ہسپتال رضیہ بانو، ڈپٹی نرسنگ سپرنٹنڈنٹ ایل جی ایچ رقیہ بانو اورکشور صدیق ، ارم تسنیم، ثناء شہزادی ، ماریہ علی،صدف مشتاق، نویدہ حمید، سمیرہ رزاق، فرزانہ شاہین، اسنا مبشرہ اور اسماء عابد نے بھی خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

(جاری ہے)

ثمینہ یاسمین نے کہا کہ نرسیں دکھی انسانیت کیلئے اللہ کی رحمت کا ظہور بن جاتی ہیں اور ایمرجنسی میں انسانی جانیں بچانے میں یہی نرسیں ڈاکٹرزکے شانہ بشانہ کام کرتی ہیں ۔ نرسنگ کا مقدس پیشہ انسانیت کیلئے شفا اور تندرستی کا پیغام ہے ۔مریض ڈاکٹروں سے بھی زیادہ نرسوں پر اعتماد کرتے ہیں،انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں صحت کے نظام میں نرسوں کے کردار کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا ہے اور ایک اندازے کے مطابق 2030تک پوری دنیا میںمزید نوے لاکھ نرسوںاور مڈوائفز کی خدمات درکار ہوں گی ۔

انہوں نے کہا کہ عالمی معیار کے مطابق نرسوں اور ڈاکٹرز کی تعداد کا مجوزہ تناسب ایک ڈاکٹر اور چار نرسیں ہیں جبکہ پاکستان میںیہ تناسب 1:2.5ہے جس سے ہمارے ہاں نرسوں کی کمی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔رضیہ بانو نے کہاکہ پنجاب حکومت نے پہلی مرتبہ چارج نرسوں کو پبلک سروس کمیشن کے ذریعے میرٹ اور شفافیت کے اصولوں کے مطابق بھرتی کرنے کی نئی تاریخ رقم کی ہے ۔

اس کے ساتھ کنٹریکٹ نرسوں کو ریگولر کر کے ان کا مستقبل محفوظ کر دیا گیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بورڈ آف مینجمنٹ کی آسامیوں پر کام کرنے والی وسیع تجربے کی حامل درجنوں نرسوں کوبھی ریگولر کیا جائے ۔ رقیہ بانو کا کہنا تھا کہ نرسوں کو بھی دیگر محکموں کی طرح گریڈ 21دینے کے ساتھ ساتھ انکے ریفریشر کورسز کرائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ امراض کی روک تھام اور ہیلتھ ایجوکیشن میں بھی نرسز کو اپنا کردار ادا کر نا چاہئے تاکہ لوگ بیماریوں سے بچاؤ کی تدابیر اور پرہیز اختیار کر کے اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکیں۔

نرس کشور صدیق ، ارم تسنیم، ثناء شہزادی ، ماریہ علی،صدف مشتاق، نویدہ حمید، سمیرہ رزاق، فرزانہ شاہین، اسنامبشرہ اور اسماء عابد و دیگر نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہو ئے کہا کہ ہسپتالوں میں مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے تناسب سے نرسوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ جو نرسیں سپیشلائزیشن کر چکی ہیں ان کو متعلقہ شعبوں میں تعینات کرنے سے زیادہ بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ نرسز نے مطالبہ کیا کہ نرسوں کے رہائشی ہاسٹلز کی حالت بہتر بنا کر وہاں بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

متعلقہ عنوان :