بھارت جموں وکشمیر بارے سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزیاں کررہا ہے،

بھارت انسانی حقوق کی پامالیاں اور کشمیری عوام کا قتل عام فوری بند کرے مقررین کا انٹرنیشنل فورم فار جسٹس اینڈ ہیومن رائٹس جموںوکشمیر کے زیر اہتمام سیمینار سے خطاب

جمعہ مئی 19:42

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) اسلام آباد میں کشمیر کے موضوع پرمنعقدہ ایک سیمینار میں مقررین نے کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اورعالمی ادارے کے کمیشن برائے بھارت اور پاکستان کی قراردادوں جن میں عالمی ادارے نے جموںوکشمیر میں رائے شماری کرانے کے ذریعے کشمیریوں کو انکا حق خوارادیت دینے کا وعدہ کیا تھا، کاحوالہ دیتے ہوئے بھارت کو اس بارے میںعالمی برادری، پاکستان اور کشمیری عوام سے کئے گئے وعدوںکو پورا کرنے پر زوردیاہے جن میں کشمیریوںکو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق دینے کا وعدہ کیاگیا تھا۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سیمینا رکا اہتمام انٹرنیشنل فورم فار جسٹس اینڈ ہیومن رائٹس جموںوکشمیر نے کیاتھا۔

(جاری ہے)

مقررین نے کہاکہ بھارت جموں وکشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں ، عالمی ادارے کے منشور، انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی قوانین ، جنیوا کنونشن اور انسانی حقوق کے بارے میں عالمی اعلامیہ کی کھلی خلاف ورزیاں کررہا ہے۔

انہوںنے کہا کہ جنیوا میں اقو ام متحدہ کے انسانی حقو ق کے بارے میں ہائی کمشنر ، او آئی سی اور برطانیہ ، یورپ اور دیگر ممالک کے منتخب نمائندوں کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی آزادانہ تحقیقات کرانے کے مطالبے پر بھارت مسلسل انکار کررہا ہے۔مقررین نے بھارتی فوجیوںکی طرف سے مقبوضہ کشمیرمیں بڑے پیمانے پر جاری انسانی حقوق کی پامالیوںخاص طورپر نہتے کشمیریوں کے قتل عام اور ان پر مظالم کے تازہ واقعات، جعلی مقابلوں، نظربندوں کے ساتھ روا رکھے جانیوالے غیر انسانی سلوک ، نوجوانوںکو انسانی ڈھال کے طورپر استعمال کرنے ،خواتین کی بے حرمتیوں ، قتل عام اورنظربندوں کو مقررہ تاریخوں پر عدالتوں میں پیش کئے بغیر انکی غیر قانونی نظربندی کو طول دینے پر اظہار تشویش کیا۔

انہوںنے قا بض فورسز کی طر ف سے پر امن مظاہرین کے خلاف مہلک پیلٹ گن کا استعمال کر کے کشمیریوں خاص طورپر نوجوانوںکو بصارت سے محروم کرنے اور تلاشی اور محاصرے کی کارروائی کے دوران لوگوں کو قتل اور عمارتوں کو تباہ کرنے کیلئے کیمیائی مواد استعمال کرنے کی مذمت کی۔ مقررین نے مقبوضہ کشمیرمیںحریت رہنمائوں کی مسلسل نظربندی اور بھارتی قابض انتظامیہ کی طرف سے ان پر عائد غیر قانونی پابندیوں پر افسوس ظاہر کیا۔

مقررین نے کہاکہ کشمیری طلباء کو تعلیم حاصل کرنے کے حق سے محروم رکھا جارہا ہے کیونکہ انہیں تعلیمی اداروں سے نکال کر سڑکوں پر گھسیٹتے ہوئے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ بھارت حریت رہنمائوںکو نظربند رکھنے ، انہیںہراساں کرنے اور کشمیری عوام تک ان کی رسائی کو روکنے کیلئے تحقیقاتی اداروںاین آئی اے اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے علاوہ پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے کالے قوانین کو استعمال کر رہا ہے۔

انہوںنے کشمیریوں کے ناقابل تنسیخ حق،حق خودار ادیت کے حصول کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے ہزاروں کشمیری شہداء کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوںنے مقبوضہ جموںوکشمیرمیں بھارتی شہریوں کو بسانے اور بھارتی آئین کی دفعہ 370اور35Aکی منسوخی کی سازشوں کے ذریعے جموںوکشمیر میں مسلمانوں کی غالب اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے بھارتی عزائم پر شدید تشویش ظاہر کی۔

مقررین نے جموں ریجن کے مسلمانوں کو ہجرت پر مجبور کرنے کے بھارتی ہتھکنڈوں خاص طور پر ضلع کٹھوعہ میں ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے آٹھ سالہ بچی آصفہ کی بے حرمتی اور قتل کے حالیہ واقعے کی شدید مذمت کی۔ انہوںنے کہاکہ یہ اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض فورسز کی طرف سے انسانی حقو ق کی پامالیاں اور کشمیریوں کی منظم نسل کشی رکوانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔

انہوںنے دس ہزار سے زائد کشمیریو ں کی دوران حراست گمشدگی پر شدید تشویش ظاہر کی۔ مقبوضہ کشمیرمیں اجتماعی گمنام قبروںکی دریافت کے بارے میں تحقیقاتی اداروں کی رپورٹوں کا نوٹس لیتے ہوئے مقررین نے اقوام متحدہ کی زیر نگرانی جنگ بندی لائن پر پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور کنٹرول لائن کے قریب بھارتی فورسز کی طرف سے شدید گولہ باری کے ذریعے نہتے کشمیریوں کے قتل پر تشویش ظاہر کی۔

سیمینار سے سید فیض نقشبندی ،عبدالباسط،سردار یعقوب خان ،علی محمد خان، جنرل ریٹائرڈ امجد سہیل،راجہ نجابت حسین ، جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم اوردیگر نے بھی خطاب کیا۔انہوںنے اقوام متحدہ پرزوردیا کہ وہ کشمیر بارے متعلقہ قراردادوں کے مطابق اپنی زیر نگرانی جموں وکشمیر میںرائے شماری کرانے کی ذمہ داری پوری کرے۔انہوںنے اقوام متحدہ ، عالمی ریڈ کراس اور انسانی حقوق کی بین االاقوامی تنظیموں سمیت تمام عالمی اداروں سے تمام حریت رہنمائوں اور کارکنوں کو رہا کرانے اورکالے قوانین کی منسوخی کیلئے بھارت پر دبائوبڑھانے کا مطالبہ کیا۔

مقررین نے اقوام متحدہ اور دیگر متعلقہ بین الاقوامی فورموںسے بھارتی فورسز اور آر ایس ایس اور بی جے پی جیسی ہندو دہشت گرد تنظیموںکی طرف سے کشمیریوں کے قتل عام ، خواتین کی بے حرمتیوں،جعلی مقابلوں، جبری گمشدگیوں، پیلٹ گنوں کے ذریعے دانستہ طورپر نوجوانوں کو بصارت سے محروم کرنے اور فوجی کارروائیوں کے دوران کیمیائی مواد استعمال کرنے کی تحقیقات پر زوردیا اور ان میں ملوث اہلکاروںکو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔

انہوںنے قوام متحدہ سے مقبوضہ کشمیرمیں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے بھارتی عزائم کا سخت نوٹس لینے پر زوردیاکیونکہ یہ عزائم کشمیریوں کے ناقابل تنسیخ حق ، حق خود ارادیت، جموںوکشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مقصد اور ان قراردوں کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں کبھی بھی منعقد کرائی جانیوالی رائے شماری کے نتائج کو شکست دینے کی ایک سازش ہے۔

مقررین نے اسلامی تعاون تنظیم (وآئی سی) او ر یورپی یونین سمیت تمام بین الاقوامی تنظیموں سے دیرینہ تنازعہ جموںوکشمیر کے حل میں بامعنی اور موثر کردار اداکرنے اور ان تنظیموں کو مقبوضہ کشمیر تک عالمی اداروں کو رسائی دینے کیلئے بھار ت سے باضابطہ طورپررابطہ کرنے کی درخواست کی۔انہوںنے بھارت پر زوردیا کہ وہ انسانی حقوق کی تمام پامالیاں اور کشمیری عوام کا قتل عام فوری بند کرے اور غیر قانونی طورپر نظربند تمام کشمیری نظربندوںکو رہا اور حریت رہنمائوں،کارکنوں اورنوجوانوںکے خلاف در ج تمام جھوٹے مقدمات ختم کرے۔