سینیٹ اجلاس: امریکہ سفارتی تلخی اور عمر خراسانی پر پابندیاں ہٹانے کے معاملے پر تشویش کا اظہار،وزارت خارجہ کے حکام طلب

جمعہ مئی 20:08

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) سینٹ میں اپوزیشن نے امریکہ اور پاکستان کے مابین سفارتی سطح پر بڑھتی ہوئی تلخی اور اقوام متحدہ کی جانب سے پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں ملوث عمر خراسانی پر پابندیاں ہٹانے کے معاملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ چیرمین سینٹ نے دونوں معاملوں پر موقف دینے کیلئے وزارت خارجہ کے حکام کو طلب کر لیا ۔

(جاری ہے)

جمعہ کے روز اپوزیشن لیڈر شیری رحمان نے نکتہ اعتراض پربات کرتے ہوئے کہاکہ واشنگٹن میں ہمارے سفارتکاروں کی نقل و حرکت کو 25 کلومیٹر تک محدود کردیا گیا ہے جس کے جواب میں پاکستان بھی امریکی سفارت کاروں کو پابندیاں عائد کر دی ہیں انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک کے مابین اس طرح کے اقدامات سے مذید تلخی بڑھے گی انہوںنے کہاکہ مریکہ کے لئے پاکستان کی جانب سے نامزد کئے جانے والے نئے سفیر نیب زدہ ہیں جبکہ ہمارے وزیر خارجہ بھی اقامہ زدہ نکلے ہیں انہوںنے کہاکہ بجٹ پیش کرنے کے لیے ایک ہی رات میں وزیر بن جاتے ہیں لیکن وزیر خارجہ کیوں نہیں بنایا جارہا ہے انہوںنے کہاکہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں تلخی آتی جارہی ہے جو بہتر نہیں ہے حکومت جلد از جلد وزیر خارجہ تعینات کیا جائے اپوزیشن لیڈر نے دہشت گرد ر عمر خراسانی پر اقوام متحدہ کی جانب سے پابندیاں ہٹانے سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوے کہاکہ اقوام متحدہ کی پابندیاں ہٹانے والی کمیٹی کی جانب سے عمر خراسانی پر سے پابندیاں ہٹانا تشویشناک ہے انہوں نے کہاکہ عمر خراسانی پاکستان میں متعدد دہشت گرد حملوں کے ماسٹر مائنڈ رہے ہیں اور آرمی پبلک سکول کے ماسٹر مائنڈ بھی عمر خراسانی ہیں انہوں نے کہاکہ عمر خراسانی نے ہمارے سیکیورٹی حکام اور شہریوں کو شہید کیا ہے اقوام متحدہ کی جانب سے ایسے اقدامات سے ایشیا اور پاکستان کی طرف ایک طوفان بڑ رہا ہے چئیرمین سینٹ نے امریکہ اور پاکستان کے مابین سفارتی تعلقات اور عمر خراسانی کے معاملے پر وضاحت دینے کیلئے پیر کے روز وزارت خارجہ حکام کو ایوان میں طلب کرلیا۔

۔۔اعجاز خان