پاک افغان باہمی تجارت میں کمی ، حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے دونوں ملکوں نے مشترکہ لائحہ عمل طے کرلیا

جمعہ مئی 20:33

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) پاکستان اور افغانستان نے باہمی تجارت میں کمی آنے کے بعد حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل طے کرلیا ہے گزشتہ ایک سال میں دونوں ملکوں درمیان ایک ارب اور دس کروڑ روپے کا تجارتی خسارہ پیدا ہوا ہے افغانستان کی صنعت و تجارت کی نائب وزیر کاملہ صدیقی کی قیادت میں افغان وفد نے پاکستان کے سیکرٹری برائے تجارت یونس ڈھاگہ اور دیگر حکام سے ملاقاتیں کیں۔

(جاری ہے)

پاکستان اور افغانستان کے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں باہمی تجارت کے حوالے سے گفت و شنید ہوئی اور مشترکہ تجاویز کے اعلامیے پر دستخط کیے گئے پاکستان کے وزارتِ تجارت کی طرف سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق افغان وفد نے پاکستانی حکام سے پاکستان کو برآمد ہونے والے افغان پھل اور سبزیوں اور دیگر اشیائ پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کرنے کے معاملے پر بھی بات کی جس پر پاکستانی حکام نے افغان وفد کو بتایا کہ وہ اس معاملے کو حل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے اسی طرح پاکستانی حکام نے افغانستان سے کپاس برآمد کرنے کے لیے بھی سہولتیں فراہم کرنے پر اتفاق کیااعلامیے کے متن کے مطابق دونوں ممالک نے دو طرفہ تجارت کو فروغ دینے کی راہ میں حائل مشکلات اور رکاوٹوں کو دور کرنے اور تاجروں کو سہولتیں فراہم کرنے کے لیے باہمی رابطوں کو برقرار رکھنے پر اتفاق کرتے ہوئے دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کے درمیان ملاقاتوں کی ضرورت پر زور دیا واضح رہے کہ حالیہ برسوں کے دوران پاک افغان باہمی تجارت کا سالانہ حجم دو ارب 70 کروڑ ڈالر سے گھٹ کر تقریباً ایک ارب 60 کروڑ ڈالر رہ گیا ہے جس کی بنیادی وجہ امن و امان میں خرابی اور سرحدوں کی عارضی بندش رہی ہے۔

عباس شاہد