12مئی کو پی ٹی آئی کراچی چیئرمین عمران خان کے جلسے میں بھرپورتیاری کے ساتھ شرکت کرے گی،فردوس شمیم نقوی

جمعہ مئی 21:24

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) پاکستان تحریک انصاف کراچی کے صدر فردوس شمیم نقوی نے پی ٹی آئی سیکرٹریٹ ’’انصاف ہائوس‘‘ کراچی میں ایک اہم اجلاس سے خطاب کیا۔ اس موقعے پر پی ٹی آئی ویمن ونگ کی صدر صائمہ ندیم، پی ٹی آئی کراچی کے سیکریٹری اطلاعات شہزاد قریشی اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ پی ٹی آئی کراچی کے صدر فردوس شمیم نقوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ بارہ مئی کو پی ٹی آئی کراچی چیئرمین عمران خان کے جلسے میں بھرپورتیاری کے ساتھ شرکت کرے گی۔

یہ جلسہ کراچی کے عوام ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جلسہ گاہ میں پی ٹی آئی کراچی کے تمام عہدیداران و کارکنان پوری تیاری کے ساتھ شریک ہوں اور اپنے قائد کا خطاب سنیں۔ کراچی پیکیج شہر کراچی کے لیے ایک شاندار پیکیج ہوگا اور پیپلز پارٹی اور متحدہ سمیت تمام مخالفین یہ جان لیں کہ کراچی پر قبضہ کرنے کا تصور ہی احمقانہ ہے۔

(جاری ہے)

سیاسی جماعت کوئی بھی ہو ، صرف ایک خاص مدت کے لیے کراچی شہر ، سندھ یا پورے پاکستان پر حکومت کرسکتی ہے لیکن چیئرمین عمران خان نے اگر قبضہ کیا ہے تو وہ کراچی شہر کی زمین پر یا حکومت پر نہیں بلکہ لوگوں کے دلوں پر کر رکھا ہے اور بارہ مئی کا جلسہ یہ ثابت کردے گا کہ چیئرمین عمران خان کراچی کی زمین پرنہیں بلکہ شہریوں کے دلوں پر حکومت کرتے ہیں۔

بلاول زرداری سمیت پی پی پی کی قیادت اس بات سے خبردار ہوجائے کہ کراچی کے شہریوں کو وہ مزید بے وقوف نہیں بنا سکتے۔ کراچی پر آپ نے سالہا سال حکومت کی لیکن اپنی جیبیں بھرنے کے علاوہ کچھ نہ کیا۔ متحدہ کے لیڈر ایک مشترکہ جلسہ کرنے کے بعد عوام کو یہ تاثر دے رہ تھے کہ وہ متحد ہو گئے اور کراچی اب ان کا ہے۔ کراچی متحدہ کے صرف متحد ہونے سے ان کا نہیں ہوگا، نہ ہی اس وجہ سے ان سے چھینا گیا کہ وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئے تھے۔

کراچی کے لوگ ان سے متنفر اس لیے ہیں کیونکہ انہوں نے کراچی کے عوام کے حقوق چھین کر اپنی جائیدادیں او رجاگیریں بنائیں۔ میئر کراچی اربوں روپے کا فنڈ کھا گئے اور اب کہہ رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے چہرے جلسہ گاہ کے جھگڑے پر کھل کر سامنے آئے۔ پی پی پی کی تو بات ہی چھوڑئیے، آپ اپنی حکومت کی کارکردگی بیان کردیجئے۔ اربوں روپے کا فنڈ آخر گیا کہاں کراچی کی ترقی پر خرچ ہوتا تو نظر بھی آنا چاہئے تھا۔