انتخابات سے پہلے ہی الیکشن کمیشن کے لیے نئی مصیبت بن گئی

سرکاری ملازمین نے الیکشن کے لیے ٹریننگ میں شرکت سے انکار کر دیا

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس جمعہ مئی 19:29

انتخابات سے پہلے ہی الیکشن کمیشن کے لیے نئی مصیبت بن گئی
لاہور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار- 11مئی 2018ء ) ::انتخابات سے پہلے ہی الیکشن کمیشن کے لیے نئی مصیبت بن گئی۔ سرکاری ملازمین نے الیکشن کے لیے ٹریننگ میں شرکت سے انکار کر دیا۔تفصیلات کے مطابق آئندہ انتخابات میں ہزاروں سرکاری اہلکاروں کو الیکشن عمل کا حصہ بنا ہے جس کے لیے تربیتی عمل کا مرحلہ شروع کر دیا گیا ہے۔39قومی اداروں کے 42ہزار کے قریب اہلکار انتخابات کا حصہ ہوں گے جن میں سے 33ہزار کو عید سے قبل اور بقیہ 9 ہزار کو عید کے بعد تربیت دینے کا پروگرام بنایا گیا ہے۔

تاہم پنجاب میں حکومت کی رٹ کمزور ہونے کے باعث الیکشن کمیشن کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔تازہ ترین خبر کے مطابق پنجاب کے سرکاری اہلکاروں نے الیکشن سے قبل ہی الیکشن کمیشن کے لیے سر درد کھڑی کر دی۔

(جاری ہے)

سرکاری ملازمین نے الیکشن کے لیے ٹریننگ میں شرکت سے انکار کر دیا۔۔الیکشن 2018 کے انتخابات کا حصہ بننے والے اداروں کے افسران نے غیر حاضری کو معمول بنا لیا ہے۔

متعلقہ حکام کی اس حوالے سے اہم میٹنگ لوکل گورنمنٹ پنجاب کے ایڈیشنل سیکرٹری کے دفتر میں ہوئی جس میں متعدد فوکل پرسنز نے بتایا ہے کہ اہلکار انکی بات نہیں مان رہے۔۔انتخابات کے حوالے سے ٹریننگ کے لیے روز 100لوگوں کو بلایا جاتا ہے جن میں سے محض 9یا 10لوگ آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جتنے پیسے آپ لوگوں نے دینے ہیں اتنے ہم سے لے لیں لیکن ہماری جان چھوڑ دیں۔اس حوالے سے الیکشن کمیشن حکام کا کہنا تھا کہ ابھی ہم کسی قسم کی کوئی کاروائی نہیں کر رہے اور انتظار کر رہیے ہیں کی انتخابات کا شیڈول جاری ہوجائے ۔تاہم شیڈول جاری ہونے کے بعد اگر کسی افسر یا اہلکار نے غیر سنجیدہ رویہ دکھایا تو اسکے خلاف قانون کے مطابق سخت تادیبی کاروائی ہو گی۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :