الپوری ، سانحہ بلوچستان کوئلہ مائن میں 23 کان کن مزدوروں کی ہلاکت ۔ شانگلہ میں دوسرے روز بھی احتجاجی مظاہرے جاری

مظاہرین نے الپوری بشام روڈ کو کئی گھنٹے تک بلاک رکھا، بازار کا مکمل شٹر ڈائون،کوئلہ کے مزدوروں کی مطالبات کی حق میں احتجاج مظاہرہ

جمعہ مئی 21:37

الپوری (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) سانحہ بلوچستان کوئلہ مائن میں 23 کان کن مزدوروں کی ہلاکت ۔ شانگلہ میں دوسرے روز بھی احتجاجی مظاہرے جاری ۔مظاہرین نے الپوری بشام روڈ کو کئی گھنٹے تک بلاک رکھا۔ بازار کا مکمل شٹر ڈائون،کوئلہ کے مزدوروں کی مطالبات کی حق میں احتجاج مظاہرہ۔ سڑک پر بیٹھ کر دھرنا دیا ۔ کوئلہ کان میں مسلسل اموات نے شانگلہ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

حکومتی عدم توجہ کوئلہ کے مزدوروں کی جان لے رہا ہیں۔ وزیراعلی کے واقعے کے حوالے سے بیان پر شانگلہ کے عوامی حلقوں اورکوئلہ کان مزدوروں میں سخت ناراضگی ۔انصاف کی حکومت میں خیبر پختونخواہ کی مزدور کی قمیت تین لاکھ جبکہ پنجاب میں تیس لاکھ ۔کوئلہ کان کی مزدوروں کے ساتھ امتیازی سلوک ہے۔ مقررین کا حکومت کو الٹی میٹم ۔

(جاری ہے)

15مئی سے ضلع بھر میں احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان۔

کوئلہ کان مزدوروں کو ان کے جائز حقوق ہر صورت لے کے رہیں گے۔ جائزحقوق کی حصولی کیلئے اسلام آباد تک پیدل مارچ کرنے کا بھی اعلان۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار سے واقعے پر خصوصی بینچ تشکیل دینے اور ملوث افراد کے خلاف کاروائی اور کوئلہ کان مزدوروں کو تحفظ دینے کا مطالبہ۔گزشتہ ہفتہ کے روز کوئٹہ بلوچستان دو مختلف واقعات میں شانگلہ سے تعلق رکھنے والے 23افراد کی اموات کے حوالے سے ضلع بھر میںاحتجاجی مظاہروں کا سلسلہ دوسرے روز بھی جاری رہا ، جمعہ کے روز بعد از نماز جمعہ غوربند ڈھیرئی میں کوئلہ کان مزدورواور سول سوسائیٹی کے زیر اہتمام زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔

مظاہرین نے مین سڑک پر بیٹھ کر دھرنا دیا ۔ جس میں سینکڑوں کان کنوں سمیت زندگی کے مختلف شعبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی، احتجاجی مظاہرے سے شانگلہ کے مختلف سیاسی جماعتوں کے ضلعی رہنمائوں نے بھی خطاب کیا ۔مظاہرین نے واقعہ کی شدید الفا ظ میں مذمت کرتے ہوئے اس کو حکام کی غفلت قرار دیتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار سے واقعہ کے از خود نوٹس لینے اور خصوصی پیکج تشکیل دینے سمیت 12نکات پیش کردئے،مظاہرین نے 15مئی کو شانگلہ ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام منعقدہ گرینڈ جرگہ میں ائندہ لائحہ عمل طے کرنے کا اعلان بھی کردیا ۔

مظاہرین کے اہم نکات میں خصوصی بینچ کی تشکیل،سانحہ کوئٹہ بلوچستان کی تحقیقات اور غفلت بھرتنے والے افراد کی خلا ف کاروائی،جعلی کاغذات پر بننے والے منیجرز،مائننگ قانون کی مطابق بنیادی سہولیات کی فراہمی،شانگلہ میں لیبر کالونی کا قیام ،بیت المال میں خصوصی کوئلہ کان میں جان بحق ہونے والے مزدوروں کے یتیم بچوں کی تعلیم کا کوٹہ بڑھانے ، کوئلہ مائنز کے انسپکٹرز ، انجینئرز ، منیجرز ، لیز ہولڈرز ، ٹھیکیدار یونی کی خلاف غفلت برتنے پر کمیشن مقرر کرنا اور متعلقہ افراد کے خلاف ایف ائی ار درج کرنے ،،پنجاب اور نمک کانوں کی مانند معاوضہ ،میتوں کو ابائی گائوں میں پہنچانے کیلئے ہیلی کاپٹر کا بندوبست ،مائینگ رولز کے مطابق خطرناک مائنز کو بند کرنا ،بیوائوں اور یتیموں کیلئے وظیفہ مقرر کرنا ، یتیموں کی تعلیم و تربیت کی مکمل بندوبست کرنا ، شانگلہ سے منتقل کوئلہ مائن مزدوروں کے سکول کو واپس شانگلہ میں تعمیر کرنا شامل ہے۔

مقررین نے کہا کہ سیاست سے بالاتر ہوکر اس صورتحال پر از سر نوسوچنا ہوگا ، کب تک اپنے بھائیوں کے جنازے اٹھاتے رہیں گے۔ ۔