پاکستان کو سی پیک کے ساتھ بریگزٹ کے بعد یورپی ممالک کے حوالے سے بھی دیکھنا چاہیے،

ماہرین یورپی ممالک 46کروڑ افراد کی ایک منڈی ہے، پاکستان کو اس سے فائدہ اٹھا کر تجارت اور سرمایہ کاری کے حوالے سے حکمت عملی بنانا چاہیئے، پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی کے زیر اہتمام سیمینار سے خطاب

جمعہ مئی 21:42

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اقتصادی راہداری منصوبے پر توجہ دیتے وقت آئندہ سال برطانیہ کے یورپ سے الگ ہونے (بریگزٹ)کے بعد کی صورتحال میں یورپی ممالک کے حوالے سے بھی دیکھنا چاہیے،یورپی ممالک 46کروڑ افراد کی ایک منڈی ہے اور پاکستان کو اس سے فائدہ اٹھا کر تجارت اور سرمایہ کاری کے حوالے سے حکمت عملی بنانا چاہیئے ۔

ان خیالات کا اظہار پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی کے زیر اہتمام سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا سیمینار کا عنوان تھا ""برطانیہ کے یورپ سے الگ ہونے کے بعد یورپی یونین سے تجارتی تعلقات اور پاکستان پر اس کے اثرات ،۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اپنی ساکھ بہتر بنانے اور یورپی ممالک سے تعلقات کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق، امن وامان اور انصاف تک رسائی کی صورتحال بہتر بنانے چاہیئے جس سییورپی ممالک کوپاکستان میں سرمایہ کاری میں مدد ملے گی ،سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے برسلز کنسلٹنگ ایڈوائزر اور یورپی پارلیمنٹ کے انڈیپنڈنٹ سائنسٹیفکٹ مشیر ڈاکٹر پال بیلینسی نے کہا کہ پاکستان کو تجارت اور برآمدات بڑھانے کے لیے مزید مواقع تلاش کرنا چاہیئے کیونکہ صرف چین کے ساتھ تجارتی مراسم کو فروغ دینا فائدہ مند نہیں ہو گا،ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معیشت میں زیادہ پھیلائو نہیں ہے اور پاکستانی انڈسٹریز کو مزید آزادی دی جانی چاہیئے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ تجارتی فوائد حاصل کرسکے ۔

(جاری ہے)

ان کا کہناتھا کہ یورپی یونین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے ۔اور پاکستان میں مجموعی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 25فیصد حصہ ہے ،برآمدات کے فروغ،معدنیات،ادویات سازی،الیکٹرانک سامان اور آٹو موبائل پرزہ جات کے ذریعہ تجارت کو فروغ دیا جاسکتاہے ،سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر وقار کا کہنا تھاکہ اگر چہ برطانیہ نے یقین دلایا ہے کہ یورپی یونین کسے علیحدگی کے بعد وہ پاکستان سے برآمدات میں تعاون جاری رکھے گا تاہم پاکستان کو ترجیجی تجارتی معاہدوں کو حتمی شکل دینے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے ۔

سیمینار سے آزاد کشمیر کی سابق وزیر سماجی بہبود اور خواتین کی ترقی کی وزیر فرزانہ یعقوب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو یورپی یونین سے حکومتی اور عوامی سطح پر رابطے مضبوط بنانے چاہیںجبکہ برجنگ ٹریڈ انٹرنیشنل کے صدر وسیم کھوکھر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور یورپی ممالک کی تاجر برادری میں معلومات کا فقدان بھی تجارت اور کاروبار کے فروغ کی راہ میں ایک رکاوٹ ہے ۔