پشاور،جوڈیشل اکیڈیمی کے زیر تربیت سول ججوں اور جوڈیشل مجسٹریٹ کے 45رکنی وفد کا خیبر پختونخوا پولیس سے متعلق بریفنگ میں شرکت

وفد کو صوبے کے مخصوص جغرافیائی محل وقوع، پولیس کے تنظیمی ڈھانچے، جرائم کی شرح، پولیس کی کارکردگی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں تفصیل سے بتایا گیا

جمعہ مئی 21:46

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) جوڈیشل اکیڈیمی کے زیر تربیت سول ججوں اور جوڈیشل مجسٹریٹ کے 45رکنی وفد نے سنٹرل پولیس آفس پشاور میں خیبر پختونخوا پولیس سے متعلق ایک بریفنگ میں شرکت کی۔ وفد کی قیادت جوڈیشل اکیڈیمی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر خورشید اقبال کررہے تھے۔ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرز شیر اکبر خان نے وفد کے ارکان کو نقشوں اور چارٹوں کی مدد سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

وفد کے ارکان کو صوبے کے مخصوص جغرافیائی محل وقوع، پولیس کے تنظیمی ڈھانچے، جرائم کی شرح، پولیس کی کارکردگی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں تفصیل سے بتایا گیا۔ انہیں پولیس کے حالات کار،، پولیس کے مشن، درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے لائحہ عمل اور پولیس میں متعارف شدہ اصلاحات کے بارے میں بھی معلومات فراہم کی گئیں۔

(جاری ہے)

انہیں خوف اور جرائم سے پاک معاشرے کی تشکیل کے لیے پولیس کی کاوشوں کے بارے میں بھی بتایا گیا۔

پولیس کے تفتیش کے طریقہ کار،، دوران تفتیش پیش آنے والے مسائل، گواہان کے بیانات اور دیگر ثبوتوں کو صفحہ مثل لانے، جرائم سے پاک معاشرے کی تشکیل کے لیے پولیس اور عدلیہ کے کلیدی کردار، انصاف کے فوری حصول، قانونی تقاضو کی تکمیل ، تفتیشی افسران کی استعدادکار، پراسیکوشن کے کردار پر مفصل بات چیت کی گئی۔وفد کے ارکان کو پولیس میں اب تک کے ادارہ جاتی اصلاحات جن میں کائونٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ، ریپڈ رسپانس فورس، سٹی پیٹرول،، K-9 یونٹ، تمام ہیڈ کوارٹرز میں بم ڈسپوزل یونٹ کے قیام، پشاور اور سوات میں فورنزک سائنس لیبارٹریوں، وہیکل ویری فیکیشن سسٹم، جیو ٹیگنگ، کرائے کی عمارتوں کے لیے بنایا گیا قانون، ڈسپیوٹ ریزلوشن کونسلز، پولیس اسسٹنس لائنز، مختلف سپشلائزڈ سکولوں کے قیام، نیشنل ٹسٹنگ سروس کے ذریعے پولیس بھرتیوں اور اہلکاروں کی فاسٹ ٹریک پروموشن سسٹم شامل ہیں کے بارے میں تفصیل سے بریفنگ دی گئی۔

شرکاء کو نئے نافذ کردہ پولیس ایکٹ2017 کے خدوحال کے بارے میں بھی بریف کیا گیا۔ وفد کے ارکان کو پولیس ایکٹ پر مکمل عمل درآمد ، اس کے تحت صوبے میں مختلف سیفٹی کمیشن ، کمپلینٹ اتھارٹیزاور کمیٹیوں کے قیام ، عوام کی بہتر خدمت، اچھی پولیسنگ اور پولیس کی استعدادی صلاحیتیں بڑھانے کے حوالے سے بھی بتایا گیا۔