نوجوان قرآن و سنت کے مطالعے کو معمولات زندگی میں داخل کریں:ڈاکٹر حسن محی الدین

پنجاب کی8 ہزار ہائیر سکینڈری سکولوں میں4 ہزار کمپیوٹراور سائنس لیبارٹریوں سے محروم ہیں،چیئرمین سپریم کونسل کا21 روزہ اسلامی تربیتی کورس مکمل کرنے والے طلباء سے خطاب

جمعہ مئی 21:46

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) تحریک منہاج القرآن کی سپریم کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر حسن محی ا لدین القادری نے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے طلباء، یوتھ اور ایم ایس ایم کے رہنمائوں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان قرآن و سنت اور اسلامی تاریخ کے مطالعے کو اپنے معمولات زندگی میں داخل کریں، دنیاوی علوم کے ساتھ دینی علوم بھی سیکھیں، وہ گزشتہ روز 21 روزہ اسلامی تربیتی کورس مکمل کرنے والے طلباء کے اعزاز میں منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ میں منعقدہ خصوصی اختتامی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔

اس موقع پر ڈاکٹر ممتاز الحسن باروی،رانا محمد اکرم، حافظ صابر، رانا تجمل نے بھی خطاب کیا۔ اسلامی تربیتی کورس میں میٹرک اور ایف کے امتحانات سے فراغت حاصل کرنے والے طلباء نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

21 روزہ اسلامی تربیتی کورس میں تحریک منہاج القرآن کے سکالرز کی طرف سے طلباء کو ترجمة القرآن،ناظرہ قرآن،تجوید و قرأت، فن خطابت، فن نعت کے حوالے سے شارٹ کورسز کروائے گئے۔

کورسز میں شریک طلباء سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر حسن محی الدین نے کہا کہ سیاسی حکومتوں نے تعلیم وتربیت اور کردار سازی کی بجائے قومی وسائل پلوں اور سڑکوں کی تعمیر میں صرف کیے جس کا نتیجہ اخلاقی گراوٹ اور انتشار کی صورت میں پوری قوم کے سامنے ہے، انہوں نے کہا کہ16 جون 2008 ء کے دن شہباز حکومت کی طرف سے پنجاب اسمبلی میں پیش کیے گئے پہلے بجٹ کے موقع پر اسمبلی کے فلور پر کہا گیا تھا کہ جس قوم کی لائبریریوں اور لیبارٹریوں کی بتیاں روشن رہیں اسے کوئی شکست نہیں دے سکتا اور آج دس سال گزر جانے کے بعد زمینی حقائق بتارہے ہیں کہ پنجاب کے 52 ہزار سکولوں میں صرف 13 ہزار لائبریریاں ہیں، ان میں سے بھی 50فیصد لائبریریاں 2008 ء سے قبل قائم ہو چکی تھیں، انہوں نے کہا کہ یہ ایک المیہ ہے کہ 8 ہزار سے زائد ہائیر سیکنڈری سکولوں میں صرف 4 ہزار سکولوں میں سائنس لیبز ہیںاور 8 ہزار ہائی سکینڈری سکولوں میں 50فیصد کمپیوٹر لیبز نہیں ہیں۔

ڈاکٹرحسن محی الدین نے کہا کہ حکمرانوں کے پاس تعیش کے منصوبوں کیلئے فنڈز کبھی ختم نہیں ہوتے لیکن تعلیم کے شعبہ کیلئے ان کے پاس ہمیشہ فنڈز کی کمی رہتی ہے۔