کراچی،پولیس تفتیش کو جدید تیکنیکس اور تقاضوں سے ہم آہنگ اور جرائم کی 20سال قبل کی اورآج کی پولیس ذمہ داریوں میں بہت فرق آچکا ہے،اے ڈی خواجہ

کتابوں کے مطالعہ سے کریمنلز جسٹس سسٹم کو تقویتملے گی، پولیس کو جدید دور کے تقاضوں ماڈرن تیکنیکس سے ہم آہنگ کرنااور جدید ہتھیاروں اورآلات سے لیس کرنا اشد ضروری ہوگیا ہے،آئی جی سندھ کاتقریب سے خطاب

جمعہ مئی 22:09

کراچی،پولیس تفتیش کو جدید تیکنیکس اور تقاضوں سے ہم آہنگ  اور جرائم ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) پولیس تفتیش کے جملہ پہلوؤں کو جدید تیکنیکس اور دور حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور جرائم کی تحقیقات کے عمل کو انتہائی مؤثر بنائے جانے جیسی تحریروں پر مشتمل دو کتابوں کی تقریب رونمائی امروز مقامی ہوٹل میں منعقد کی گئی۔تقریب میں آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی جبکہ اس موقع پر سابقہ آئی جیز،ایڈیشنل آئی جی ٹریفک سندھ غلام قادر تھیبو، ایڈیشنل آئی جی سندھ آفتاب پٹھان،ایڈیشنل آئی جی کرائم ڈاکٹرامیرشیخ، ڈی آئی جی ایڈمن کراچی سمیت زونل ڈی آئی جیز، ضلعی ایس ایس پیز کراچی اور سی پی ایل سی کے نمائندگان کے علاوہ آئی این ایل(INL)اورجی آئی زیڈ (GIZ) کے عہدیداران اور نمائندے بھی موجود تھے ۔

فارنسک انویسٹی گیشن ہینڈ بک ) (Forensic Investigation Handbook کے مصنف شرجیل کھرل (PSP)ہیں جبکہ انویسٹی گیشن آف آفینسز(Investigation Of Offences) محمد اکبرPSP)،QPM،(PPM نے تحریر کی ہے ۔

(جاری ہے)

مذکورہ کتابوں کی تحریر کا آغاز سال 2011ئ؁ میں کیا گیا تھا۔کتابوں کی تقریب رونمائی میں بطور مہمان خصوصی شرکت کو آئی جی سندھ نے باعث اعزاز وافتخار قرار دیتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ میرے لئے یہ امر اور آج کا یہ لمحہ باعث مسرت ہے کہ میں سندھ پولیس کی دو کتابوں کی رونمائی کررہا ہوں۔

انہوں نے کہاکہ ان کتابوں کے مطالعہ سے کریمنلز جسٹس سسٹم کو تقویت ملنے کے ساتھ ساتھ مقدمات کی تفتیش ناصرف نتیجہ خیز ہوگی بلکہ ٹھوس شواہد پر مشتمل چالان کی بدولت جرائم پیشہ عناصر کا سزا سے بچنا بھی مشکل ہوجائیگا۔کیونکہ جرائم کے مؤثر انسداد جیسے اقدامات اور کریمنلز کے خلاف کامیاب کاروائیوں میں تفتیش تحقیق اور چھان بین کا اپنا ایک الگ کردار ہے ۔

آئی جی سندھ نے کہا کہ پولیس پر کام کا دباؤ ہے تاہم امن و امان بحال رکھنا اور عوام کے جان ومال کا تحفظ پولیس کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔ انہوں نے کہاکہ20سال قبل کی اورآج کی پولیس ذمہ داریوں میں بہت فرق آچکا ہے ۔آج جرائم کے نت نئے طریقے ہیں جن سے نمٹنے کے لئے پولیس کو جدید دور کے تقاضوں ماڈرن تیکنیکس سے ہم آہنگ کرنااور جدید ہتھیاروں اورآلات سے لیس کرنا اشد ضروری ہوگیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ پولیس سندھ کی کارکردگی کو مزید فروغ دینے اور پولیس کے تمام شعبوں کے مجموعی امور کو تقویت دینے کے لئے باقاعدہ اصلاحات کے تحت ہر ممکن اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔انہوں نے دورانِ خطاب پولیس افسران اور اہلکاروں کو جدید تربیت،لاجسٹکس سپورٹ، دوران تربیت نصابی سرگرمیوں سمیت صحت مند سرگرمیوں کی فراہمی جیسے اقدامات کا بھی تفصیلی احاطہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ دستیاب وسائل اور سہولیات سے محکمہ پولیس کو درپیش چیلنجز کا نا صرف مقابلہ کررہے ہیں بلکہ پولیس افسران اورجوانوں کو بہترین اور معیاری تربیت کی فراہمی کے عملی اقدامات بھی اٹھائے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس ٹریننگ اسکولز میں دستیاب ٹرینرز کی تربیت فراہم کرنے کے طریقوں کو بھی بہتر اور جدید بنایا جارہا ہے ۔انہوں نے اس موقع پر سندھ پولیس کے جملہ امور میں آئی این ایل کے تعاون اور معاونت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے سندھ پولیس اور آئی این ایل کے اشتراک کو ایک سنگ میل قرار دیا۔

آئی جی سندھ نے کہا کہ ان کتابوں سے بہترین استفادہ کے لئے ان کا انگریزی زبان سے دیگرمقامی زبانوں میں ترجمہ بھی کیا جائے ۔ آئی جی سندھ نے دوران خطاب مزید کہا کہ مطالعہ انسانی سوچ اور کردار پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے اور اسکی عملی زندگی میں کامیابی کی ضمانت بنتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ کتابوں کے مطالعہ اور ان میں تحریر کیئے گئے مختلف مضامین اور تجربات کو سمجھنے اور ان سے رہنمائی لینے پر پولیس افسران کو مقدمات کی تفتیش کے جملہ پہلوؤں اور زاویوں میں ناصرف معاونت ملیگی بلکہ تفتیش وتحقیق بھی نتیجہ خیز اور کامیاب ہوسکے گی۔

تقریب کے اختتام پر آئی جی سندھ نے مذکورہ کتب کی تحریر کے دوران مختلف مراحل میں مشاورت اور معاونت کرنیوالے ممبران میں یادگاری شیلڈز تقسیم کیں۔ان ممبران میں جوائنٹ ڈائریکٹرIB عبدالخالق شیخ،ڈی آئی جی ٹریننگ شرجیل کھرل،سابقہ آئی جیز نیاز احمد صدیقی،اسدجہانگیر، محمداکبر،سعوداحمدمرزا کے علاوہ ایچ آر ایکسپرٹ اقبال احمد ڈیتھو شامل ہیں۔#