بڑے بڑے ناموں کی شمولیت تحریک انصاف کو بھاری پڑنے کا امکان

عمران خان جن الیکٹینلز کو اپنی پارٹی میں شامل کر رہے ہیں وہی عام انتخابات میں ان کی شکست کی وجہ بنیں گے: معروف صحافی خاور گھمن

muhammad ali محمد علی جمعہ مئی 20:15

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) بڑے بڑے ناموں کی شمولیت تحریک انصاف کو بھاری پڑنے کا امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاناما کیس کا فیصلہ آنے کے بعد ن لیگ کے اراکین اسمبلی اور مرکزی رہنماوں نے پارٹی کو خیر آباد کہنے کا آغاز کر دیا تھا۔ پارٹی کو خیر آباد کہنے کا سلسلہ ایک ماہ قبل تک قدرے سست روی کا شکار رہا، تاہم اب حکومت کی مدت ختم ہونے میں جب کچھ ہی روز باقی ہیں، ایسے میں ایکدم ن لیگ کے اراکین اسمبلی اور رہنماوں نے بہت بڑی تعداد میں پارٹی کو خیر آباد کہہ دیا ہے۔

ن لیگ کو خیر آباد کہنے والے اراکین اسمبلی اور رہنماوں کے بارے میں عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ یہ وہ الیکٹیبیلز ہیں جو اپنے حلقوں میں الیکشن میں باآسانی فتح حاصل کر لیتے ہیں۔ ان رہنماوں کی شمولیت سے تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کے امکانات بہت بڑھ گئے ہیں۔

(جاری ہے)

جبکہ تحریک انصاف میں آنے والے دنوں میں مزید ایسے الیکٹیبلز کی شمولیت کا امکان ہے۔

ان الیکٹیبلز کا تعلق صرف ن لیگ ہی نہیں، بلکہ دیگر جماعتوں سے بھی تعلق ہے۔ اس تمام صورتحال میں صحافیوں اور تجزیہ کاروں کی اکثریت کی رائے ہے کہ عمران خان ہر گزرتے دن کیساتھ وزارت عظمیٰ کی کرسی کے قریب سے قریب تر ہوتے جا رہے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے معروف صحافی اور تجزیہ کار خاور گھمن کی رائے کچھ اور ہی ہے۔ قومی اخبار میں لکھے گئے کالم میں خاور گھمن کا کہنا ہے کہ بڑے بڑے ناموں کی شمولیت تحریک انصاف کو بھاری پڑ سکتی ہے۔

ایسے رہنما دودھ کے دھلے نہیں ہیں۔ ایسے رہنماوں کی شمولیت تحریک انصاف کے امیج کو خراب کرنے کا باعث بن رہی ہے۔ عمران خان جن الیکٹینلز کو اپنی پارٹی میں شامل کر رہے ہیں وہی عام انتخابات میں ان کی شکست کی وجہ بنیں گے۔ خاور گھمن نے عمران خان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایسے رہنماوں کو الیکشن کیلئے ٹکٹ دینے سے گریز کریں، بصورت دیگر انہیں انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔