کراچی، 12مئی نہ صرف کراچی بلکہ ملکی تاریخ کا سیاہ باب ہے ،ممتاز حسین سہتو

جس دن شہر قائد میں بے گناہ لوگوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی اس دن کو قوم ہرگز نہیں بھول سکتی، بارہ مئی سے لیکر سانحہ بلدیہ فیکٹری تک متاثرین کو انصاف ملنا چاہئے، جنرل سیکریٹری جماعت اسلامی سندھ

جمعہ مئی 23:05

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) جماعت اسلامی سندھ کے جنرل سیکریٹری ممتاز حسین سہتو نے کہا کہ 12مئی نہ صرف کراچی بلکہ ملکی تاریخ کا سیاہ باب ہے جس دن شہر قائد میں بے گناہ لوگوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی اس دن کو قوم ہرگز نہیں بھول سکتی، بارہ مئی سے لیکر سانحہ بلدیہ فیکٹری تک متاثرین کو انصاف ملنا چاہئے مگر بدقسمتی سے آئین وقانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی کی جنگ میں اپنی جانیں قربان کرنے والی بھی آج انصاف سے محروم ہیں۔

اس جدوجہد میں وکلاء کو بھی زندہ جلایا گیا مگر ان کے لواحقین تاحال انصاف کے منتظر ہیں۔ انہوں نے آج ایک بیان میں مزید کہا کہ ملک میں غریب اور امیر کیلئے الگ الگ قانون ہونے کی وجہ سے معاشرہ تقسیم اور مظلوم ومحکوم طبقات میں احساس محرومی بڑھ رہا ہے ، چیف جسٹس ہسپتالوں کی زبوں حالی، پیرولیم مصنوعات،،موبائل پر ٹیکس اور پانی کی فراہمی کیلئے نوٹس لیتے ہیں جو کہ ایک اچھی بات ہے لیکن بارہ مئی کو ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں نہتے اور پرامن سیاسی کارکنان ،وکلاء اور سول سوسائٹی کے افراد کو گاجر مولی کی طرح کاٹا گیا لیکن اعلیٰ عدلیہ کی بحالی اور قانون کی حکمرانی کیلئے شہادتیں پیش کرنے والوں کیلئے سپریم کورٹ کی جانب سے بھی کوئی نوٹس نہیں لیا گیا، اس وقت کے وزیرداخلہ سندھ آج میئر کراچی کی کرسی پر فائز جبکہ ایم کیو ایم کے ان نامعلوم دہشتگردوں کو آج تک قانون کے کٹھڑے میں کھڑا نہیں کیا جاسکا ہے۔

(جاری ہے)

جماعت اسلامی کے کارکنان اور رہنمائوں نے ہمیشہ حق اور سچ کی خاطر لازوال قربانیاں دیں ہیں ،شہر کراچی کے لوگوں کو الطاف حسین کی مافیا سے نجات دلانے کیلئے جماعت اسلامی کے کارکنان نے ہر اول دستے کا کردار ادا کیا اور ہم وطن عزیز میں اسلام کے بابرکت نظام کے نفاذ ،قانون کی بحالی اور کرپٹ قیادت سے نجات کیلئے اپنابھرپور اور مؤثر کردار ادا کرتے رہیں گے۔ جماعت اسلامی چیف جسٹس سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ وہ بارہ مئی کے قتل عام کا ازخود نوٹس لیکر پچاس سے زائد بے گناہ افراد کے قتل عام میں ملوث مجرموں کو عدالتی کٹھڑے میں کھڑاکرکے عبرت ناک سزا دی جائے تاکہ کراچی سمیت ملک کے کسی بھی حصے میں اس طرح کے واقعات کا سدباب ہوسکے۔