جامعہ کراچی: شعبہ ابلاغ عامہ کے زیراہتمام ایک روزہ سیمینار کا انعقاد

ابلاغ عامہ کسی بھی ریاست کا ایک ستون ہے جس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا، ڈاکٹر اسامہ شفیق فہیم صدیقی نے اپنے کرائم رپورٹنگ کے تجربات کی روشنی میں صحافتی ذمہ داریوں اور تحقیقاتی جرنلزم کے طریقے اور احتیاطیں بھی بتائیں

جمعہ مئی 23:14

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) اے ایچ خانزادہ نے صحافت کی اصطلاح کی وضاحت اور مختلف ادوار کی صحافت کی روح کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ میں ہر دور کی صحافت کا شاہد ہوں۔میں نے کراچی میں بگی میں بیٹھے انگریزوں کو ،،کراچی میں ہونے والے ہنگاموں اور ابھی کے بہتر ہوتے ہوئے حالات سب دیکھے۔سیاسی باتیں نہیں کرتا میں بحیثیت ایک عام انسان سب سے گذارش کرتاہوں کہ خود کو صرف پاکستانی تصور کریں اور بس ایمانداری سے اپنے اپنے فرائض اداکریں چاہے آپ کا تعلق کسی بھی ادارے سے ہو۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ کراچی کے شعبہ ابلاغ عامہ (ایوننگ پروگرام ) کے سال آخر فائنل سیمیٹر کے طلباوطالبات کے زیر اہتمام شعبہ ہذا کے سرورنسیم ہال میں منعقد ہ سیمینار بعنوان: ’’میڈیا ایجوکیشن‘‘ سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

اس موقع پرمیڈیا ہائوسز کے نامور صحافی بھی موجودتھے۔شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ کراچی کے ڈاکٹر اُسامہ شفیق نے کہا کہ ابلاغ عامہ کسی بھی ریاست کا ایک ستون ہے جس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

ابلاغ عامہ کے تمام شعبہ جات میں انتہائی ذمہ داری اور ایمانداری کی ضرورت ہوتی ہے اور ایک صحافی چاہے اس کا تعلق ریڈیو یا ٹیلی ویژن سے ہو صحافتی قوانین کا پابند ہوتاہے۔انہوں نے شعبہ کے منتظمین طلباوطالبات کی اس کو شش کو سرہا اور تمام مہمانوں کا شکریہ اداکیا۔۔ڈاکٹر مرتضیٰ نے اشعار کے ذریعے ایمان افروز بیانات طلباوطالبات تک پہنچائے اور طلبہ کو صحافتی خوبیوں کو اجاگر کرنے کے لئے قرآن وحدیث کو اپنی زندگی میں شامل کرنے کی تلقین کی۔

فہیم صدیقی نے اپنے کرائم رپورٹنگ کے تجربات کی روشنی میں صحافتی ذمہ داریوں اور تحقیقاتی جرنلزم کے طریقے اور احتیاطیں بھی بتائیں ۔انہوں نے اخبارات میں زیر بحث نقیب محسود کے کیس پر تفصیلی رپورٹ پر بات کی۔عِماد سومرو نے کہا کہ ٹیلی ویژن رپورٹنگ اور اینکرنگ کے بارے میں تفصیلی بحث کی ۔عباس ممتاز نے اپناصحافتی تجربہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کے سارے شعبے ہی توجہ طلب ہیں ۔

صحافی بننے کے لئے جوش اور جذبے کی ضرورت ہوتی ہے۔مبشر میر نے شروعات میں ہی اخبارات میں لکھنے کے طریقہ کار کو واضح کیا اور کالم نگاری پرزوردیا۔عالیہ ناز نے خواتین صحافتی کردار کو نمایاں کرتے ہوئے کہا کہ خواتین رپورٹنگ یا اینکرنگ میں بخوبی اپنا کردار اداکررہی ہیں۔ انہوں نے سیفٹی کے طریقوں کو بھی واضح کیا ۔سیمینار سے نعمت خان ،رضوان جعفر اور شاہ زیب احمد نے بھی خطاب کیا اور ٹیلی ویژن میں صحافتی تجربات کا تبادلہ کیا۔

متعلقہ عنوان :