ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ میںتیسری سہ ماہی کارکردگی بارے اجلاس کا انعقاد

جمعہ مئی 22:26

لاہور۔11 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) ڈاکٹر غضنفر علی ایڈیشنل سیکرٹری پلاننگ (زراعت) نے ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد میں زرعی تحقیقاتی منصوبہ جات پر کام کی رفتار کا جائزہ لینے کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ زرعی تحقیقی منصوبہ جات کے اہداف کامقررہ مدت میں حصول اور ان کے ثمرات کاشتکاروں تک پہنچنے نہایت ضروری ہیں۔

اٴْنھوں نے تحقیق کے کام کو سراہتے ہوئے کام کی رفتار کو مزید تیز کرنے کی ہدایت کی انھوں نے کہا کہ پھلوں ، سبزیوں اور دالوں کی نئی اقسام پر تحقیق کے عمل میں موسمیاتی تبدیلیوں اور مارکیٹ طلب کو مد نظر رکھنا نہایت ضروری ہے۔ جبکہ زرعی سائنسدان اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے کیلئے زیادہ سے زیادہ تربیتی کورسز کریں۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ زراعت پنجاب موسمیاتی تبدیلیوںکے مطابق نئی منافع بخش فصلوں کی کاشت کو فروغ دے رہا ہے اور کاشتکاروں کی فلاح کیلئے ہر اٴْس اقدام کی تائید کرتا ہے جس سے کاشتکاروں کی آمدن میں اضافہ ہو۔

اجلاس میں ڈاکٹر عابد محمود ڈائریکٹر جنرل زراعت (ریسرچ) پنجاب،، ڈاکٹر قربان احمد ڈائریکٹرجنرل زراعت (فیلڈ) ظفر یاب حیدر ڈائریکٹر جنرل زراعت (توسیع) ،رانا محمود اختر چیف (پی اینڈ ای) سیل ،خالد محمود سبجیکٹ سیپشلسٹ( پیسٹ وارننگ )کے علاوہ زرعی شعبہ جات فیصل آباد کے ڈویژنل ہیڈز نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر عابد محمود ڈائریکٹر جنرل زراعت (ریسرچ) پنجاب نے جاری زرعی تحقیقی منصوبہ جات بارے تفصیلاً بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ زرعی تحقیق کے منصوبہ جات پر کام مقررہ مدت میں مکمل کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زرعی سائنسدان موسمیاتی تبدیلیوں، پانی کی کمی برداشت کرنے والی ، زیادہ پیداواری صلاحیت کی حامل نئی اقسام کی تیاری پر تحقیق کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ کاشتکاروں کو زیادہ پیداواری صلاحیت رکھنے والی جدید ٹیکنالوجی کی حامل اقسام کی فراہمی ہمارا اولین فریضہ ہے تاکہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کے ساتھ کم پیداواری لاگت آئے جس سے نہ صرف کاشتکار زیادہ منافع حاصل کر سکیں گے بلکہ ملکی معیشت بھی مضبوط ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ نئی اقسام کی تیاری میں اس بات پر مزید توجہ دی جا رہی ہے تا کہ اعلی کوالٹی کی زرعی پیداوار کو فروغ دے کر زرعی برآمدات میں اضافہ کے ساتھ قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکے ۔