دو روزہ ’’انٹرنیشنل کانفرنس آف نیوز ایجنسیز‘‘ 13 مئی کو شروع ہوگی ،کانفرنس میں 20 ممالک کے خبر رساں اداروں کے سربراہان و نمائندگان شرکت کریں گے

کانفرنس سے پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے اور ذرائع ابلاغ کے میدان میں درپیش چیلنجوں سے نبرد آزما ہونے کیلئے خبر رساں اداروں کے مابین اشتراک کار کے فروغ میں مدد ملے گی

جمعہ مئی 23:17

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) اقوام عالم میں پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے اور ذرائع ابلاغ کے میدان میں درپیش چیلنجوں سے نبرد آزما ہونے کیلئے خبر رساں اداروں کے مابین اشتراک کار کے فروغ کیلئے 2 روزہ ’’انٹرنیشنل کانفرنس آف نیوز ایجنسیز‘‘ (آئی سی این ای) 13 اور 14 مئی کو وفاقی دارالحکومت میں منعقد ہو گی۔

کانفرنس میں عالمی برادری میں ملک کے معتدل تشخص کو اجاگر کرنے میں معاون ہو گی جس میں آذربائیجان، بحرین، بلغاریہ، چین،، مصر،، یونان،، انڈونیشیا، ایران،، قزاخستان، لبنان، اومان، قطر،، رومانیہ، سعودی عرب،، سوڈان، شام، تیونس اور ترکی سمیت 20 ممالک سے بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے سربراہان و نمائندگان شرکت کریں گے۔ قومی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی اس کانفرنس کا موضوع ’’پاکستان کا میڈیا۔

(جاری ہے)

مواقع اور چیلنجز‘‘ ہے جس میں خبر رساں اداروں کیلئے ابھرتے ہوئے پیشہ وارانہ چیلنجز پر خصوصی توجہ مرکوز ہو گی اور شرکاء کو ذرائع ابلاغ کے میدان میں عصر حاضر کے چیلنجوں پر غور و غوض اور اس حوالہ سے حکمت عملی وضع کرنے کا موقع ملے گا۔ اس کانفرنس سے دیگر خبر رساں اداروں کے ساتھ قریبی اشتراک کار اور شریک ممالک تک روابط کو مزید فروغ دینے میں بھی مدد ملے گی۔

اے پی پی کے منیجنگ ڈائریکٹر مسعود ملک نے کہا کہ یہ کانفرنس صحافیوں کو تعاون کے نئے شعبے تلاش کرنے کیلئے دیگر ممالک کے خبر رساں اداروں کے ساتھ براہ راست اور آسان روابط استوار کرنے کا موقع فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اے پی پی نے دنیا میں خبر رساں اداروں کیلئے پیدا شدہ صورتحال اور ابھرتی ہوئی مسابقانہ فضاء سے نبرد آزما ہونے کیلئے یہ اہم اقدام اٹھایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل کمیونیکشین کے موجودہ دور میں قومی خبر رساں اداروں کا کردار بہت زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ کوئی بھی قوم عالمگیریت کے چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے الگ تھلگ نہیں رہ سکتی۔ کانفرنس میں پاک۔۔چین اقتصادی راہداری ((سی پیک))، میڈیا روابط، خبر رساں اداروں کو مستقبل کے چیلنجز اور ڈیجیٹل دور میں خبر رساں اداروں کے کردار اور باہمی تعاون کے موضوعات پر اہم نشستیں منعقد ہوں گی۔

مختلف شعبہ جات سے کلیدی مقررین ان اہم موضوعات پر منعقد ہونے والی نشستوں میں اظہار خیال کریں گے۔ غیر ملکی شرکاء کو پاکستان کی امن کاوشوں کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بتایا جائے گا کہ کس طرح پاکستان نے دہشت گردی کے چیلنج پر قابو پایا ہے۔ موجودہ دور میں روابط کا ادراک کرتے ہوئے اس بین الاقوامی کانفرنس میں خبروں کے تبادلے اور اشتراک کار کی راہ میں حائل تکنیکی اور پیشہ وارانہ رکاوٹوں کی نشاندہی اور اس ضمن میں حکمت ہائے عملی وضع کرنے میں مدد ملے گی۔

قومی خبر رساں ادارہ اے پی پی کے 40 بین الاقوامی خبر رساں اداروںکے ساتھ خبروں کے دوطرفہ تبادلہ کے معاہدے موجود ہیں اور 17 دیگر کے ساتھ اس قسم کے معاہدوں پر دستخط کا عمل جاری ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ کانفرنس خبر رساں اداروں کو مزید قریب لانے میں معاون ہو گی۔ کانفرنس کے شرکاء کو پاکستان کے سماجی، اقتصادی اور سیاسی حالات کے بارے میں آگاہی کا موقع ملے گا اور اس سے ملک کا حقیقی مثبت تشخص اجاگر ہو گا۔ کانفرنس کے مندوبین کی آمد (آج) ہفتہ کو شروع ہو جائے گی اور اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ان کے خیرمقدم کیلئے تمام انتظامات کو حتمی شکل دیدی گئی ہے۔