آئندہ عام انتخابات اپنے وقت پر ہوں گے، عوام فیصلہ کریں گے کہ آئندہ کس کی حکومت ہو گی،

مسلم لیگ (ن) اپنی کارکردگی کی بنیاد پر عوام میں جائے گی، ملک میں جتنی بھی ترقی ہوئی جمہوری دور میں ہوئی، مسلم لیگ (ن) نے 5 سال میں خدمت اور ترقی کا ماڈل پیش کیا ہے، ملکی تاریخ میں اتنا کام کبھی نہیں ہوا، کراچی میں گہرے پانی کی کنٹینر پورٹ خطہ کی جدید ترین پورٹ ہے جس سے وسطی ایشیاء، چین اور افغانستان سمیت خطہ کے دیگر ممالک سے روابط بڑھیں گے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا پاکستان کی گہرے پانی کی پہلی کنٹینر پورٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب

جمعہ مئی 23:26

آئندہ عام انتخابات اپنے وقت پر ہوں گے، عوام فیصلہ کریں گے کہ آئندہ ..
کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ آئندہ عام انتخابات اپنے وقت پر ہوں گے، عوام فیصلہ کریں گے کہ آئندہ کس کی حکومت ہو گی، مسلم لیگ (ن) اپنی کارکردگی کی بنیاد پر عوام میں جائے گی، ملک میں جتنی بھی ترقی ہوئی جمہوری دور میں ہوئی، مسلم لیگ (ن) نے 5 سال میں خدمت اور ترقی کا ماڈل پیش کیا ہے، ملکی تاریخ میں اتنا کام کبھی نہیں ہوا، کراچی میں گہرے پانی کی کنٹینر پورٹ خطہ کی جدید ترین پورٹ ہے جس سے وسطی ایشیاء، چین اور افغانستان سمیت خطہ کے دیگر ممالک سے روابط بڑھیں گے۔

وہ جمعہ کو یہاں پاکستان کی گہرے پانی کی پہلی کنٹینر پورٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ وفاقی وزیر میری ٹائم میر حاصل بزنجو،، وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور دیگر بھی اس موقع پر موجود تھے۔

(جاری ہے)

وزیراعظم نے کہا کہ ملک کی پہلی ڈیپ کنٹینر پورٹ کے پہلے فیز کا افتتاح باعث مسرت ہے، کراچی میں گہرے پانی کی کنٹینر پورٹ خطہ کی جدید ترین پورٹ ہے، اس سے وسطی ایشیاء، چین اور افغانستان سمیت خطہ کے دیگر ممالک سے روابط بڑھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کے منصوبے پورٹ قاسم اور گوادر پورٹ پر بھی لگائے جائیں گے، یہ بندرگاہیں تجارتی سرگرمیوں کیلئے مرکزی اہمیت کی حامل ہیں، اسی طرح ایل این جی ٹرمینل بھی تعمیر کئے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت ترقیاتی ایجنڈے پر کام کر رہی ہے جس کے تحت سی پیک منصوبوں کو تیزی کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچایا جا رہا ہے، محمد نواز شریف نے نئے منصوبے شروع کرنے اور پرانے منصوبے مکمل کرنے کا اعلان کیا تھا جس پر عملدرآمد ہو رہا ہے، یہ پہلی حکومت ہے جس نے منصوبے شروع بھی کئے اور مکمل بھی کئے ہیں، ملک میں بجلی کے بحران پر قابو پانے کیلئے 10400 میگاواٹ کے منصوبے شروع اور مکمل کئے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں 1800 کلومیٹر طویل ہائی ویز زیر تکمیل ہیں جبکہ 1700 کلومیٹر طویل موٹرویز کی تعمیر علاقائی روابط میں مرکزی کردار ادا کرے گی، یہ معمولی ترقی نہیں ہے، پہلے بھی حکومتیں آتی رہی ہیں لیکن ہماری حکومت نے نواز شریف کے وژن کے تحت کام کیا اور مسائل اور چیلنجز پر قابو پایا، آج پاکستان ترقی کر رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایک ابھرتی ہوئی معیشت ہے، جی ڈی پی کی شرح نمو 5.8 فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ افراط زر قابو میں ہے، چیلنجز کے باوجود بہت سے ترقیاتی منصوبے مکمل کئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں پہلی دفعہ تاریخی اصلاحات کی گئی ہیں جو ہماری حکومت کی چار سالہ محنت کی عکاس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اصلاحات کے نتیجہ میں ٹیکس دہندگان کو سہولیات دی گئی ہیں جس کے نتیجہ میں ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھے گی اور وہ لوگ بھی ٹیکس نیٹ میں شامل ہوں گے جو پہلے ٹیکس ادا نہیں کر رہے تھے اور ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

اس موقع پر وزیراعظم نے کے پی ٹی ملازمین کیلئے ایک ماہ کی تنخواہ کے برابر بونس دینے کا اعلان کیا اور کہا کہ ملازمین کے جائز مطالبات پورے ہونے چاہئیں کیونکہ اگر مزدور خوش ہو گا تو ادارہ بھی ترقی کرے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں جتنی بھی ترقی ہوئی جمہوری دور میں ہوئی، یہ دوسری حکومت ہے جو اپنی مدت پوری کر رہی ہے، جولائی میں عام انتخابات ہوں گے اور عوام فیصلہ کریں گے کہ آئندہ کس کی حکومت ہو گی، ووٹ کے نتیجہ میں جو حکومت بنے گی وہ آگے چلے گی، مسلم لیگ (ن) اپنی کارکردگی کی بنیاد پر عوام میں جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات وقت پر ہوں گے، اس سلسلہ میں اخباری باتوں پر کان نہ دھریں، ہماری کوشش ہے کہ آئندہ انتخابات آزادانہ اور شفاف انداز میں منعقد ہوں اور جو بھی نئی حکومت آئے وہ اپنی مدت پوری کرے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے 5 سال میں خدمت اور ترقی کا ماڈل پیش کیا ہے، ملکی تاریخ میں اتنا کام کبھی نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت عوام کے ووٹ کے نتیجہ میں آئی تھی اور اگلی حکومت بھی ووٹ کے ذریعے ہی آنی چاہئے، مسلم لیگ (ن) کسی بھی غیر جمہوری عمل کا حصہ بنی، نہ بنے گی۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں جوڈیشل ایکٹیوازم ہے، ہر ادارہ اپنی جگہ بنانے کی کوشش کرتا ہے، آئین نے ہر ادارے کا دائرہ کار اور اختیارات متعین کئے ہیں، طے شدہ ذمہ داریوں کو اپنا کر ہی آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے تقریب کے شرکاء پر زور دیا کہ وہ انتخابات میں ذمہ داری سے حصہ لیں اور ووٹ ڈالیں جس کو منتخب کیا جائے پھر اسے پانچ سال برداشت بھی کیا جائے، یہی جمہوریت کا سبق ہے۔