مرکز ی مجلس عاملہ کا اجلاس، نواز شریف پر چیئرمین نیب کے بیان کی مذمت،استعفیٰ سے متعلق نواز شریف کے مطالبہ کی تائید

جھوٹ کے ہر ذمہ دار کو نہ صرف بے نقاب کیا جائے گا بلکہ پاکستانی قوانین میں موجود ہر قانون کے ذریعے انہیں قرار واقعی سزا دلوانے کیلئے تمام اقدامات اختیار کئے جائیں گے،وزیر داخلہ احسن اقبال پر فائرنگ کے واقعہ کی شدید مذمت اور ان کی صحت یابی کیلئے دعا کی گئی،اجلاس میں آئندہ انتخابات کیلئے ٹکٹوں کی تقسیم سے متعلق پارلیمانی بورڈ کی تشکیل ،منشور کمیٹی،مرکزی الیکشن سیل،میڈیا کمیٹی، لیگل ایڈ کمیٹی اور مرکزی الیکشن سیل کے قیام کے متعلق امور زیر غور آئے، 15مئی سے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کیلئے امیدواروں سے درخواستیں وصول کی جائیں گی،مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی افواج کی طرف سے انسانی حقوق کی پامالی اور بے گناہ کشمیریوں کے قتل عام کی شدید مذمت کرتے ہیں، کشمیریوں کی حمایت جاری رکھی جائے،مسلم لیگ (ن) کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں فیصلے

جمعہ مئی 23:31

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (مرکز ی مجلس عاملہ )نے سابق وزیراعظم نواز شریف پر منی لانڈرنگ کے الزامات سے متعلق چیئرمین نیب کے انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور مکمل جھوٹ پر مبنی میڈیا رپورٹ پر حامل بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے چیئرمین نیب کے استعفیٰ سے متعلق سابق وزیراعظم نواز شریف کے مطالبہ کی تائید کر دی،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جھوٹ کے ہر ذمہ دار کو نہ صرف بے نقاب کیا جائے گا بلکہ پاکستانی قوانین میں موجود ہر قانون کے ذریعے انہیں قرار واقعی سزا دلوانے کیلئے تمام اقدامات اختیار کئے جائیں گے،وزیر داخلہ احسن اقبال پر فائرنگ کے واقعہ کی شدید مذمت اور ان کی صحت یابی کیلئے دعا کی گئی،اجلاس میں آئندہ انتخابات کیلئے ٹکٹوں کی تقسیم سے متعلق پارلیمانی بورڈ کی تشکیل ،منشور کمیٹی،مرکزی الیکشن سیل،میڈیا کمیٹی، لیگل ایڈ کمیٹی اور مرکزی الیکشن سیل کے قیام کے متعلق امور زیر غور آئے، 15مئی سے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کیلئے امیدواروں سے درخواستیں وصول کی جائیں گی،اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی افواج کی طرف سے انسانی حقوق کی پامالی اور بے گناہ کشمیریوں کے قتل عام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کشمیریوں کی حمایت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

جمعہ کو مسلم لیگ (ن) کی طرف سے جاری اعلامیے کے مطابق پنجاب ہائوس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (مرکز ی مجلس عاملہ )کا اجلاس ہوا، جس میں مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف ، مسلم لیگ (ن) کے صدر و وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف،، سینیٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق،، سینیٹر پرویز رشید،، ڈاکٹر آصف کرمانی، خواجہ سعد رفیق،، وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان،،مریم نواز،، مریم اورنگزیب،، رانا ثناء اللہ،، حمزہ شہباز شریف، چوہدری برجیس طاہر سمیت دیگر نے شرکت کی۔

اجلاس میں مرکزی مجلس عاملہ نے چیئرمین نیب کے انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور مکمل جھوٹ پر مبنی میڈیا رپورٹ پر حامل بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیئرمین نیب نے اس حقیقت کو بھی ٹھکرا دیا کہ جس رپورٹ کو بنیاد بنایا گیا ہے اس کی تردید خود ورلڈ بینک اور سٹیٹ بینک کی جانب سے بھی جاری کر دی گئی اور رپورٹ کے مطابق اس میں نہ منی لانڈرنگ کا کوئی ذکر ہے اور نہ کسی شخصیت کو اس میں ملوث قرار پایا گیا ہے۔

اجلاس میں متفقہ طور پر قرار پایا کہ اس جھوٹ کے ہر ذمہ دار کو نہ صرف بے نقاب کیا جائے گا بلکہ پاکستانی قوانین میں موجود ہر قانون کے ذریعے انہیں قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے تمام اقدامات اختیار کیے جائیں گے۔اجلاس کے شرکاء نے یہ بھی عہد کیا کہ ہم اپنے قائد محمد نواز شریف کے خلاف ہر سازش اورہتھکنڈے کو ناکام بنانے کے لیے آئینی ، قانونی اور جمہوری جدوجہد کو اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک عظیم تر عوامی قوت کے ذریعے ہم دروغ گوئی کے تمام داغ دھو نہیں ڈالتے۔

اجلاس نے پارٹی قائد کے اس مطالبے کی تائید کی کہ چیئرمین نیب فی الفور اپنے الزامات کے ثبوت پیش کریں یا استعفیٰ دے کر گھر جائیں۔اجلاس میں وزیر داخلہ احسن اقبال پر فائرنگ کے واقعہ کی شدید مذمت اور ان کی صحت یابی کیلئے دعا کی گئی۔اجلاس میں پارلیمانی بورڈ کی تشکیل ،منشور کمیٹی،مرکزی الیکشن سیل،میڈیا کمیٹی، لیگل ایڈ کمیٹی اور مرکزی الیکشن سیل کے قیام کے متعلق امور زیر غور آئے۔

اجلاس میں طے پایا کہ 15مئی سے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے ممبران کے لیے درخواستیں وصول کی جائیں گی۔۔قومی اسمبلی کے لیے 50ہزارجبکہ صوبائی اسمبلی کے لیے 30ہزار روپے فیس مقررکی گئی۔درخواستیں 180ایچ ماڈل ٹاؤن میں وصول کی جائیں گے۔۔پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی اور بے گناہ کشمیریوں کے قتل عام کی شدید مذمت کرتا ہے۔

اجلاس اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ فوری اپنا نمائندہ مقبوضہ جموں و کشمیر بھیج کر صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے ان مظالم کی روک تھام کے لیے سکیورٹی کونسل کو رپورٹ پیش کرے۔اجلاس یہ بھی مطالبہ کرتا ہے کہ جنوبی ایشیاء میں امن کے قیام کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت آزادانہ رائے شماری کے ذریعے اس مسئلہ کے منصفانہ حل کے لیے فوری اقدام کیے جائیں۔

اجلاس مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو یقین دلاتا ہے کہ پاکستان کے 21کروڑ عوام اس مشکل گھڑی میں اپنے کشمیری بھائیوں کی جدوجہد میں شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔اجلاس گزشتہ 5فروری کو قائد پاکستان محمد نواز شریف کے مظفر آباد میں ولولہ انگیز خطاب کی من و عن تائید کرتا ہے۔یہ اجلاس ہندوستانی افواج کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر بسنے والے بے گناہ شہریوں پر بلا اشتعال فائرنگ کی بھی شدید مذمت کرتا ہے۔