عدالت عظمیٰ کی خاران میں 6مزدوروں کے قتل کیس کی سماعت ،متعلقہ موبائل کمپنی کے چیف ایگزیکٹو رپورٹ سمیت طلب

چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ مارے جانے والے لوگ واپس نہیں آسکتے تاہم انہیں مارنے والے لوگ پکڑے جاسکتے ہیں، چیف جسٹس کے ریمارکس

جمعہ مئی 23:35

عدالت عظمیٰ کی  خاران میں 6مزدوروں کے قتل  کیس کی سماعت ،متعلقہ موبائل ..
کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل دورکنی بینچ نے بلوچستان کے ضلع خاران کے علاقے لیجہ میں موبائل فون ٹرانسمیشن لائن ٹاور لگانے والے 6مزدوروں کے قتل اور ایک کے زخمی ہونے سے متعلق ازخودنوٹس کیس میں یوفون موبائل کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کو اگلی سماعت پرپیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ اس سلسلے میں تحریری رپورٹ جمع کرائیں ۔

گزشتہ روز خاران میں موبائل فون ٹرانسمیشن لائن ٹاور لگانے والے کمپنی کے مزدوروں کی ٹارگٹ کلنگ سے متعلق کیس کی سماعت شروع ہوئی تو اسپیشل سیکرٹری داخلہ بلوچستان وجہہ اللہ کنڈی نے عدالت کو بتایاکہ 3اور چار مئی کی درمیانی شب کو خاران کے علاقے لیجہ میں نجی کمپنی کی ٹرانسمیشن کھمبا لگانے کے کام پر مامور مزدوروں پرمسلح افراد کی جانب سے فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں 6مزدور جاںبحق ہوئے جبکہ ایک زخمی ہوا واقعہ بی ایریا میں پیش آیا جس کے ساتھ پولیس کا کوئی تعلق نہیں واقعہ خاران سے 20کلومیٹر مشرقی علاقے میں لیویز ایریامیں پیش آیا ہے جو حساس علاقہ ہے اس سلسلے میں موبائل کمپنی یا پھر ٹھیکیدار نے انتظامیہ سے کوئی این او سی نہیں لی یہ وہ علاقہ ہے جہاں سال 2015ء میں چیئرمین صغیر بادینی اغواء ہوئے بلکہ سیکورٹی فورسز پر بھی فائرنگ کے واقعات رونما ہوئے ہیں واقعہ سے متعلق ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے اس موقع پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے استفسار کیاکہ موبائل کمپنی کے حکام اور ٹھیکیدار کہاں ہے تو موبائل کمپنی کے وکیل نے پیش ہوکر کہاکہ کمپنی جاںبحق افراد کے لواحقین کیلئے معاوضے کااعلان کریگی چیف جسٹس نے کہاکہ معاوضہ صرف جاںبحق افراد کے بیوہ اور بچوں کو ملنا چاہیے اس سے بہن بھائیوں اور دیگر کو نہیں ملناچاہیے ۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ مارے جانے والے لوگ واپس نہیں آسکتے تاہم انہیں مارنے والے لوگ پکڑے جاسکتے ہیں ۔۔سماعت کے دوران میرنصرت حسین عنقاء نے عدالت کو بتایاکہ صوبائی حکومت اور وزارت داخلہ کی جانب سے کسی قسم کے اقدامات نہیں کئے جارہے اس سے قبل بھی 20افراد جن کا تعلق پنجاب سے تھا کو نشانہ بنایاگیا جب بھی پنجاب لاشیں جاتی ہیں تو اس سے ہم بلوچستان کے لوگ بھی متاثر ہوتے ہیں جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیاکہ خاران واقعہ میں زخمی ہونے والے شخص کی حالت کیسی ہے تو عدالت کوبتایا گیاکہ زخمی شخص کی حالت تشویشناک ہے انہیں کوئٹہ کے ہسپتال میں ہی طبی امداد دی جارہی ہے اس موقع پر چیف جسٹس نے مزدوروں کو معاوضہ دینے سے متعلق موبائل کمپنی کے حکام سے وضاحت طلب کی اورکہاکہ انہیں وقفے کے بعد اس سلسلے میں بتایاجائے ،وقفے کے بعد سماعت شروع ہوئی تو موبائل کمپنی کے وکیل کی جانب سے عدالت کوبتایاگیاکہ کمپنی نے این او سی لی تھی جس کی کاپی عدالت کو پیش کی جارہی ہے جبکہ ٹاور انسٹالیشن کاکام ایک چینی کمپنی کررہی تھی جبکہ اس منصوبے کی ملکیت حکومت کی ہے ہم انسانیت کے ناطے مزدوروں کو معاوضہ دینے سے متعلق فیصلہ کرینگے اس سلسلے میں اعلیٰ حکام سے بات کی جائے گی جس پر چیف جسٹس نے کمپنی کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ ہاں بڑا احسان کرو گے غریبوں کو معاوضہ دیکر سیٹھو کچھ تو غریبوں کا خیال رکھو جبکہ جسٹس اعجازالاحسن نے موبائل کمپنی کے وکیل پر برہمی کااظہار کیا اورکہاکہ انہوں نے این او سی کی جو کاپی فراہم کی ہے وہ زمین کی این او سی ہے سیکورٹی کی نہیں سپریم کورٹ کے سامنے کیوں اس طرح کیاجارہاہے حساس علاقوں میں مزدوروں سے کام لیتے ہوئے سیکورٹی کیلئے انتظامیہ کو آگاہ کرنا ہوتاہے کام کرنے والے مزدوروں کے ساتھ اگر کچھ ہوتاہے تو اس کے ذمہ داری کمپنی اور ٹھیکیدار پر عائد ہوتی ہے جبکہ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ کمپنی کا سربراہ کون ہے اسے کل کراچی میں میرے سامنے ساڑھے 9بجے پیش ہونے کیلئے کہے وہ کوئی فرشتہ تو نہیں جو نہیں آسکتابعدازاں بینچ کے ججز نے مزدوروں کے معاوضے اور دیگر سے متعلق موبائل کمپنی یوفون کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو ازخود16مئی کو عدالت کے روبرو پیش ہونے کا حکم دیا اورکہاکہ سماعت سے قبل اس سلسلے میں کمپنی تحریری رپورٹ بھی جمع کروائیں ۔