پختونوں کے حقوق و تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ان کی بد حالی کے خاتمے کیلئے ہر فورم پر جدوجہد کی جائے گی، سکندر شیر پائو

پی ٹی آئی کی حکومت نہ ہی پختونوں کے مسائل کو سمجھتی ہے اور نہ ہی اس کا ادراک رکھتی ہے جبکہ ان کو ریلیف دینے کیلئے ان کے پاس کوئی پروگرام نہیں اور محض زبانی جمع خرچ کے ذریعے انھیں ٹرخایا گیا، فاٹا کو خیبر پختونخوا میں شامل کیا جائے تاکہ وہ قومی دھارے میں اپنا کردار ادا کر سکے ، شمولیتی تقریب سے خطاب

جمعہ مئی 23:36

پختونوں کے حقوق و تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ان کی بد ..
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) قومی وطن پارٹی کے صوبائی چیئرمین سکندر حیات خان شیرپائونے صوبہ اور پختونوں کی بڑھتی ہوئی پسماندگی اوراحساس محرومی کوصوبائی حکومت کی غفلت کا نتیجہ قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ ناقص پالیسیوں نے ان کی زندگی اجیرن بنادی۔انھوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور پختونوں کے حقوق و تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ان کی بد حالی کے خاتمے کیلئے ہر فورم پر جدوجہد کی جائے گی۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے صدر گڑھی کتوزئی تحصیل شبقدر میں ایک شمولیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر پی ٹی آئی اور اے این پی کے سرکردہ کارکنوں ندیم خان،احمد خان،سہیل خان،صدیق خان،شیرولی،فاروق خان،نوید خان،ذاکر خان،سجاد خان،شیراز خان،یعقوب،واجد خان،ھدایت اللہ،صدیق جھانگیر اور کامران خان نے اپنے ساتھیوں اور خاندانوں سمیت قومی وطن پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔

(جاری ہے)

سکندر شیرپائونے کہا کہ پختونوں کی پسماندگی اور محرومیوں کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے تاکہ وہ مزید فعال انداز میں قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکے۔انھوں نے کہا کہ پختونوں کو مختلف ادوار میں مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا جس کی وجہ سے وہ انتہائی پسماندگی کی طرف چلے گئے۔انھوں نے کہا کہ صوبہ میں موجود پی ٹی آئی کی حکومت نہ ہی پختونوں کے مسائل کو سمجھتی ہے اور نہ ہی اس کا ادراک رکھتی ہے جبکہ ان کو ریلیف دینے کیلئے ان کے پاس کوئی پروگرام نہیں اور محض زبانی جمع خرچ کے ذریعے انھیں ٹرخایا گیا۔

انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے نان ایشوز پر عوام کا قیمتی وقت برباد کردیا اور اب جب انکی حکومت ختم ہونے والی ہے تو ترقیاتی کاموں کے نام پر عوام کو مشکلات میں دھکیل دیاہے۔انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے صوبے کی حقوق کیلئے عملی جدوجہد نہیں کی جس سے صوبہ اپنے حقوق سے محروم رہ گیا جس کے لئے صوبے کے عوام انکو کبھی بھی معاف نہیں کریگی۔

انھوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کوقدرتی وسائل سے محروم کیا جارہا ہے اور ترقیاتی کام نہ ہونے کے برابر ہے۔انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کا معاندانہ رویہ پختونوں کی دہشت گردی کے خلاف تاریخی قربانیوں کی نفی ہے۔انھوں نے کہا کہ تمام ترقیاتی منصوبے پنجاب تک محدود کئے گئے ہیں اورپختونوں کو ان کے جائز حقوق بھی نہیں دیئے جارہے ہیں بدیں طوران کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ فاٹا کو خیبر پختونخوا میں شامل کیا جائے تاکہ وہ قومی دھارے میں اپنا کردار ادا کر سکے۔انھوں نے کہا کہ پختونوں کی ترقی دراصل پاکستان کی ترقی و خوشحالی ہے لیکن حکمران بد نیتی سے چھوٹے وفاقی اکائیوں کے ساتھ امتیازی رویہ روا رکھا ہوا ہے۔انھوں نے کہا کہ عوام کے اندر اتحاداور اتفاق قومی وطن پارٹی کا نصب العین ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ پختون معاشی اور سماجی ترقی حاصل کرے۔