90 دن میں تبدیلی لانے کا دعوی کرنے والے اقتدار سنبھال کر پانچ سال میں بھی تبدیلی لانے سے قاصر رہے، میاں افتخار حسین

گذشتہ پانچ سالوں میں چار مرتبہ ان سے بجٹ لیپس ہوا اور پانچویں بجٹ کو پیش کرنے سے قاصر ہیں، 65 سالوں میں اس صوبے کا صرف 37 ارب روپے کا قرض تھا جبکہ تحریک انصاف کی حکومت نے گذشتہ پانچ سالوں میں پختونخوا پرقرضوں کا بوجھ 358 ارب روپے تک پہنچادیا، خطاب

جمعہ مئی 23:36

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ نوے دن میں تبدیلی لانے کا دعوی کرنے والے اقتدار سنبھال کر پانچ سال میں بھی تبدیلی لانے سے قاصر رہے۔گذشتہ پانچ سالوں میں چار مرتبہ ان سے بجٹ لیپس ہوا اور پانچویں بجٹ کو پیش کرنے سے قاصر ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن پختونخوا کے صوبائی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقعہ پر اے این پی کے مرکزی نائب صدر باز محمد خان، صوبائی سنیئر نائب صدر سید عاقل شاہ اور جوائینٹ سیکرٹری نثار خان سمیت کئی راہنما موجود تھے۔ میاں افتخارحسین نے نئی منتخب ہونے والی کابینہ سے حلف بھی لیا۔میاں افتخارحسین نے کہا کہ 65 سالوں میں اس صوبے صرف کا 37 ارب روپے کا قرض تھا جبکہ تحریک انصاف کی حکومت نے گذشتہ پانچ سالوں میں پختونخوا پرقرضوں کا بوجھ 358 ارب روپے تک پہنچادیا اور اس کے باوجود وہ عوام کو کوئی ریلیف فراہم کرنے میں ناکام رہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان صاحب نے دعوی کرکے چیلنچ کیا ہے کہ ان کے دور حکومت میں جتنے ترقیاتی کام ہوئے اتنے گذشتہ چالیس سال میں نہ ہوسکے، میاں افتخارحسین نے ان کا چیلنچ قبول کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ چالیس برس تو درکنار، اگر عوامی نیشنل پارٹی اور تحریک انصاف کے گذشتہ پانچ پانچ سالوں کی کارکردگی کا موازنہ کیا جائے تو دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائیگا۔

میاں افتخارحسین نے مزید کہا کہ عمران خان کے ہیلتھ اور تعلیمی ایمرجنسی کا بھانڈا بیچ چوراہے پھٹ گیا ہے، چیف جسٹس صاحب کے گذشتہ دو دوروں نے ان کے ہسپتالوں کی حالت زار کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔ اور تعلیمی ایمرجنسی کا یہ عالم ہے کہ اس وقت پختونخوا میں 18 لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی آرٹی ملک کا مہنگا ترین ماس ٹرانزٹ منصوبہ ہے۔

اپنے خزانے کے خرچ پر پنجاب کے میٹروکو بنانے والوں کا مذاق اڑانے والوں کو اپنے بی آر ٹی منصوبے کے ڈیزائین کو 30 مرتبہ تبدیل کرنا پڑا۔ سوات موٹروے پر اب تک ایک پل بھی مکمل نہیں ہوسکا ہے اور عالم یہ ہے کہ وزیراعلی صاحب اس کا افتتاح کرنے کا پرتول رہے ہیں۔عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری نے مزید کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت نے اپنے کرپٹ لوگوں کو نیب سے بچانے کیلئے احتساب کمیشن کا بت کھڑا کردیا اور اسے کام کرنے بھی نہیں دیا گیا۔

محکمہ پولیس کیلئے پنجاب سے افسران کو بلالیا گیا جبکہ مقامی افیسروں کو سائیڈ لائین کردیا گیا۔ میاں افتخارحسین کا کہنا تھا کہ 2018 ئ کے انتخابات سے قبل فاٹا کو ہرصورت خیبرپختونخوا ضم کرنا چاہتے ہیں، اس کے بعد ہماری اگلی کوشش بلوچستان کے پختون بیلٹ کو ضم کرنے کی ہوگی کیونکہ ہم پختونخوا کے سینے پر کھینچی گئی کسی خودساختہ لکیر کو تسلیم نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ باجوڑ سے ڑوب تک سڑک کی تعمیر سے نہ صرف قبائل باہم جڑ جائینگے بلکہ دیگر پختونخوا سے بھی ان کا ربط قائم ہوگا اور اس طرح ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکیں گے۔انہوں نے کہا کہ مادری زبان کے بغیر قومیں ترقی نہیں کرسکتیں، اقتدار میں آکر ہر کالج میں پشتو کے سبجیکٹ سپشلسٹ بھرتی کرینگے۔ انہوں نے پختون سٹوڈنٹس فیدریشن کے ممبران سے کہا کہ انہیں فخر افغان باچا خان کی سوچ اور فکر کا نمونہ بننا ہے اور چونکہ باچا خان نے ہمیشہ تعلیم کے حصول کا درس دیا ہے لہذا ارکان کی پہلی ترجیح تعلیم کا حصول ہونا چاہئے۔